حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 280 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 280

حیات احمد ۲۸۰ جلد دوم حصہ سوم معاملہ اپنے بندوں سے طرز واحد پر نہیں اور تو جہات اور اقبال اور فتوح حضرت احدیت کی کوئی ایک راہ خاص نہیں۔اگر چہ طرق مشہورہ ریاضات اور عبادات اور زہد اور تقویٰ ہے مگر ما سوا اس کے ایک اور طریق ہے جس کی خدا تعالیٰ کبھی کبھی آپ بنیاد ڈالتا ہے۔کچھ دن گزرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا۔اور وہ یہ ہے کہ ایک مجمع زاہدین اور عابدین ہے اور ہر ایک شخص کھڑا ہو کر اپنے مشرب کا حال بیان کرتا ہے اور مشرب کے بیان کرنے کے وقت ایک شعر موزون اُس کے منہ سے نکلتا ہے جس کا اخیر لفظ قُعُود اور سُجو د اور شُهُود وغیرہ آتا ہے جیسے یہ مصرع تمام شب گزرانیم در قیام و سجودلی چند زاہدین اور عابدین ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھتے ہیں۔پھر اخیر پر اس عاجز نے اپنے مناسب حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے مگر اس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی۔اور جو شعر اُس خواب کی مجلس میں پڑھنا تھا وہ بطور الہام زبان پر جاری ہو گیا اور وہ یہ ہے۔طریق زہد و تعبد ندانم اے زاہد خدائے من قدمم راند براہِ داؤد سوچ ہے کہ یہ نا چیز زہد اور تعبد سے خالی ہے اور بجز بجز و نیستی اور کچھ اپنے دامن میں نہیں اور وہ بھی خدا کے فضل سے نہ اپنے زور سے۔جولوگ تلاش کرتے ہیں 66 وہ اکثر زاہدین اور عابدین کو تلاش کرتے ہیں۔اور یہ بات اس جگہ نہیں۔“ مکتوبات احمد یہ جلد اصفحہ ۷۱ ۷۲۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۸۷،۵۸۶ مطبوعه ۲۰۰۸ء) پھر ۱۸ / جنوری ۱۸۸۴ء کو بھی ایک مکتوب میں (جبکہ لودہانہ سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں آنا چاہتے تھے ) تحریر فرمایا کہ لے ترجمہ۔میں نے تمام رات قیام و سجود میں گزاری ہے۔کے ترجمہ۔اے زاہد ! میں ریا کارانہ زہد و طاعت کے طریق کو نہیں جانتا کیونکہ میرے خدا نے میرا قدم داؤد کے راستے پر ڈالا ہے۔