حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 273 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 273

حیات احمد ۲۷۳ جلد دوم حصہ سوم باشندوں پر فضلیت بخشی گئی ہے۔پس سوال ہفتم کے جواب میں اسی قدر کافی ہے۔(۸) اس ناکارہ کے والد محترم کا نام غلام مرتضی تھا وہی جو حکیم حاذق تھے اور دنیوی وضع پر اس ملک کے گرد و نواح میں مشہور بھی تھے۔وَالسَّلَامُ عَلى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى 66 (۳۰ / دسمبر ۱۸۸۴ء مکتوبات احمد جلد اول صفحہ ۳۹۶ تا ۳۹۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اس سال کے واقعات کے لحاظ سے شائد میں اسے سب سے پیچھے ذکر کرتا مگر میں نے ایک خاص مقصد سے اسے مقدم کر لیا دعوئی مجددیت کا کھلا کھلا اعلان آپ نے اسی سال ۱۸۸۴ء میں کیا اور جب لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کئے تو آپ نے اپنے مقام اور منصب کا بھی اظہار کر دیا جیسا کہ اس مکتوب سے ظاہر ہے کہ حاجی ولی اللہ صاحب کو ابتداء حضرت اقدس سے کچھ اخلاص تھا اور وہ براہین احمدیہ کے خریدار بھی تھے لیکن جب براہین کی چوتھی جلد کی اشاعت کے ساتھ اس کی آئندہ اشاعت ایک غیر معین عرصہ کے لئے معرض التوا میں آئی تو جن لوگوں کو شکوک و شبہات شروع ہوئے ان میں ایک حاجی ولی اللہ صاحب بھی تھے۔وہ ریاست کپورتھلہ میں ایک معزز عہدہ دار تھے اور اپنی حکومت اور امارت کا بھی ایک نشہ تھا حضرت کو انہوں نے ایک خط لکھا جس میں براہین احمدیہ کے التوائے اشاعت کی وجہ سے وعدہ شکنی وغیرہ کے الزامات لگائے گئے مگر حضرت نے اُن کے مکتوب کو تو حوصلہ اور برداشت سے پڑھا لیکن خیانت اور بددیانتی کا الزام چونکہ محض اتہام تھا۔آپ نے اس کا نہایت دندان شکن جوابے ایسے رنگ میں دیا جو صرف مخدومی مکرمی اخویم حاجی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔بعد سلام مسنون۔آج مدت کے بعد عنایت نامہ پہنچا۔آپ نے جس قدر اپنے عنایت نامہ میں اس احقر عباد اللہ کی نسبت اپنے بزرگا نہ ارشادات سے بدنیتی۔ناراستی اور خراب باطنی اور وعدہ شکنی اور انحراف از کعبہ ء حقیقت وغیرہ وغیرہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔میں ان سے ناراض نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اول تو 8 وو ہر چہ از دوست می رسد نیکوس ترجمہ۔دوست جو بھی سلوک کرے اچھا ہی کرے گا۔