حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 270
حیات احمد ۲۷۰ جلد دوم حصہ سوم سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور ایسے داخل ہوئے کہ حضور کے برگزیدہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن سے اور اُن کے دوسرے رفقاء سے اپنے ساتھ جنت میں ہونے کا وعدہ دیا۔بہر حال وہ مکتوب یہ ہے:۔مخدومی مکر می اخویم سلَّمہ اللہ۔بعد سلام مسنون - آن مخدوم کا دوبارہ عنایت نامہ پہنچا۔اس عاجز کو اگر چہ باعث علالت طبع طاقت تحریر جواب نہیں لیکن آنمخدوم کی تاکید دوبارہ کی وجہ سے کچھ بطورا جمال عرض کیا جاتا ہے۔(۱) یہ عاجز شریعت اور طریقت دونوں میں مجدد ہے۔(۲) تجدید کے یہ معنی نہیں کہ کم یا زیادہ کیا جاوے۔اس کا نام تو نسخ ہے بلکہ تجدید کے یہ معنی ہیں کہ جو عقائد حقہ میں فتور آگیا ہے اور طرح طرح کے زواید ان کے ساتھ لگ گئے ہیں یا جو اعمال صالحہ کے ادا کرنے میں سُستی وقوع میں آگئی ہے یا جو وصول اور سلوک الی اللہ کے طریق اور قواعد محفوظ نہیں رہے ان کو مجد دا تاکید بالاصل بیان کیا جائے وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى : اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا یعنی عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ دل مر جاتے ہیں اور محبت الہیہ دلوں سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور ذوق اور شوق اور حضور اور خضوع نمازوں میں نہیں رہتا اور اکثر لوگ رو بدنیا ہو جاتے ہیں اور علماء میں نفسانیت اور فقراء میں عجب اور پست ہمتی اور انواع و اقسام کی بدعات پیدا ہو جاتی ہیں تو ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ صاحب قوت قدسیہ کو پیدا کرتا ہے اور وہ حجتہ اللہ ہوتا ہے اور بہتوں کے دلوں کو خدا کی طرف کھینچتا ہے اور بہتوں پر اتمام حجت کرتا ہے یہ وسوسہ بالکل نکتا ہے کہ قرآن شریف و احادیث موجود ہیں پھر مجد د کی کیا ضرورت ہے یہ انہی لوگوں کے خیالات ہیں جنہوں نے کبھی غمخواری سے اپنے ایمان کی طرف نظر نہیں کی۔اپنی حالت الحديد : ۱۸