حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 266
حیات احمد ۲۶۶ جلد دوم حصہ سوم ۱۸۸۴ء کے واقعات ۱۸۸۴ء کا سال سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے ایک دور جدید کا سال ہے۔یوں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کا ہر نیا دن نئی برکات کو لے کر آتا تھا اور ایک بہت بڑے انقلاب کو قریب کر رہا تھا مگر ۱۸۸۴ء میں ایک حیرت انگیز انقلاب آپ کی زندگی میں واقع ہوا۔اس وقت تک آپ یہ تو جانتے تھے اور خدا تعالیٰ کی متواتر وحی وارشادات کی بنا پر جانتے تھے اور بعض دوستوں کو بھی اس سے مطلع کر چکے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک خاص مقصد کے لئے مامور فرمایا ہے۔اس ماموریت کی شان کے متعلق بھی آپ نے ان مکتوبات میں جو بعض دوستوں کے نام لکھے۔صاف صاف بتایا کہ وہ علیٰ منہاج نبوت ہے اور جب بھی بعض مشکلات اور مخالفین کی پیدا کردہ روکوں کا ذکر آیا تو آپ نے اسی رنگ میں ان کی تصریح کی کہ انبیاء علیہم السلام کو اس طرح پر مشکلات پیش آتی ہیں۔غرض اپنی ماموریت کے شعور اور اعلان کے ساتھ آپ اتنا ہی سمجھتے تھے کہ تائید دین کے لئے آپ کتاب براہین احمدیہ لکھ رہے ہیں لیکن جبکہ ابھی چوتھی جلد مطبع میں ہی تھی اور یہ ۱۸۸۴ ء ہی کا واقعہ ہے تو خود براہین احمدیہ کے متعلق ہی ایک نیا امر پیش آ گیا ابتدا میں جو خیال تھا وہ جاتا رہا چنانچہ آپ نے چوتھی جلد کے آخر میں ” ہم اور ہماری کتاب“ کے عنوان سے لکھا کہ ابتدا میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اس کے قدرت الہیہ کی ناگہانی تحتی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی