حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 257 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 257

حیات احمد ۲۵۷ جلد دوم حصہ سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الكَرِيمِ عرض حال الحمد لله ثم الحمد للہ قریباً ۱۸ سال کے بعد میں حیات احمد کی دوسری جلد کا تیسرا نمبر شائع کر رہا ہوں یہ اُسی کے فضل اور رحم کا کرشمہ ہے کہ اُس نے مجھے اب تک زندگی بخشی اور اس عمر (۸۰) میں جبکہ پیر فرتوت ہو گیا قوت و توانائی عطا فرمائی کہ میں اپنے محسن و آقا کے حالات ذکر کو بلند کروں۔حیات احمد کا دوسرا نمبر حضرت چوہدری نواب محمد دین رضی اللہ عنہ کے دستِ اعانت کا نتیجہ تھا اور اس سے پہلا حضرت سیٹھ حسن احمدی رضی اللہ عنہ کی محبت کا ، اللہ تعالیٰ ان کے مدارج اپنے قرب میں بلند کرے۔حضرت نواب صاحب آج زندہ ہوتے تو وہ یقیناً اس کام کی تکمیل کے لئے میرا ساتھ دیتے اللہ تعالیٰ ان کی اولا د کو یہ توفیق دے۔اور حضرت حسن کی سعادت مند اولا د تو میرے ساتھ تعاون کرنے میں سعادت سمجھتی ہے۔داستان تالیف آخر کتاب میں لکھ دی ہے۔بظاہر شکوہ قوم ہے۔لیکن حقیقت میں احساس کی بیداری کے لئے ایک کوشش ہے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ۱۹۲۷ء کے جلسہ سالانہ پر فرمایا تھا کہ یہ کتاب ہر احمدی کے گھر میں خواندہ ہو یا نا خواندہ ہونی چاہیئے“ اب ہر احمدی اپنے نفس کا احتساب کر لے۔لاکھوں کی جماعت میں ۴۳ سال کے اندر اپنے امام کے حالات زندگی مدون نہ ہوں تو افسوس کیوں نہ ہو۔بہر حال میں اپنی حقیر کوشش کو خدا کے فضل پر بھروسہ کر کے جاری رکھوں گا یہاں تک کہ یا کامِ من بر آید یا جان زین برآید ا ترجمہ :۔یا تو میرا کام مکمل ہو جائے گا یا جان جسم سے روانہ ہو جائے گی۔