حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 252
حیات احمد ۲۵۲ جلد دوم حصہ دوم نبوی کو بتدبر و تفکر تمام دیکھا اور محی الدین (ابن) عربی وغیرہ کی تالیفات پر بھی نظر ڈالی کہ جو اس طور کے خیالات سے بھری ہوئی ہیں۔اور خود عقل خدا داد کی رو سے بھی خوب سوچا اور فکر کیا لیکن آج تک اس دعوی کی بنیاد پر کوئی دلیل اور صحیح حجت ہاتھ نہیں آئی اور کسی نوع کی برہان اس کی صحت پر قائم نہیں ہوئی بلکہ اس کے ابطال پر براہین قویہ اور حج قطعیہ قائم ہوتے ہیں کہ جو کسی طرح اٹھ نہیں سکتیں“۔مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۹۰ مطبوعه ۲۰۰۸ء) آپ کے معمول میں یہ بات تھی کہ کسی مذہب کے کسی مسئلہ پر قلم نہیں اٹھاتے تھے جب تک ایک مخلص محقق کی حیثیت سے اس کے تمام پہلوؤں پر پوری طرح غور نہ کر لیں۔اور جہاں جس قدر بھی صداقت اور حقیت ہو اس کے قبول کرنے میں کبھی مضائقہ نہیں کرتے تھے اس لئے کہ وہ تو مومن ہی کی متاع ہے۔غرض میر عباس علی صاحب کے ذریعہ مسئلہ وحدت وجود کے قائلین کو ان کی حقیقت سے ایسا آگاہ کیا کہ پھر وہ اس سلسلہ میں آگے نہ بڑھ سکے۔آپ کا یہ بھی طرز عمل تھا کہ مجرد دشمن کے اعتراض کا جواب ہی مقصود خاطر نہ ہوتا تھا بلکہ اس کے ضمن میں قرآن کریم کی حقیقی تعلیم کو بھی ظاہر کرنا ضروری سمجھتے تھے۔باوجود یکہ آپ ان ایام میں علیل تھے لیکن ایک مذہبی مسئلہ کے جواب کے لئے آپ نے اپنی صحت کی بھی پرواہ نہ کی اور نہیں کرتے تھے۔چنانچہ بعد کے آنے والے زمانہ میں راقم الحروف (عرفانی) نے دیکھا کہ تمام بڑی بڑی تصنیفات شدید بیماریوں کی حالت میں لکھی گئی ہیں۔اس وقت بھی آپ کی طبیعت ناساز تھی لیکن آپ کے دل میں ان خرابیوں کی وجہ سے جو امت محمدیہ میں پیدا ہو چکی تھیں ایک درد تھا چنانچہ لکھا کہ ” خدا تعالیٰ امت محمدیہ کی آپ اصلاح کرے۔عجب خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں