حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 250
حیات احمد ۲۵۰ جلد دوم حصہ دوم ان ابتدائی ایام ہی میں ایسی ترقی کی کہ آپ حضرت کے خاص احباب میں سے ہو گئے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی نسبت اپنی رائے کا اظہار یوں فرمایا۔ایک جوان صالح اخلاص سے بھرا ہوا میرے اول درجہ کے دوستوں میں سے ہے۔ان کے چہرہ پر ہی علامات غربت و بے نفسی واخلاص ظاہر ہیں کسی ابتلا کے وقت میں نے اس دوست کو متزلزل نہیں پایا اور جس روز سے ارادت کے ساتھ انہوں نے 66 میری طرف رجوع کیا اُس ارادت میں قبض اور افسردگی نہیں بلکہ روز افزوں ہے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن ۳ صفحه ۵۳۶) مجھ کو یہاں چودھری صاحب کے حالات زندگی بیان کر نے متصور نہیں بلکہ صرف ایک واقعہ کا اظہار زیر نظر ہے جو ۱۸۸۴ء کے اوائل سے تعلق رکھتا ہے کہ ایک طرف مخالفت کی آندھیاں اٹھ رہی تھیں اور اسی اثناء میں حضرت احدیت کی طرف سے کامیابی کی بشارتیں مل رہی تھیں اور ان کا ظہور اس طرح پر ہو رہا تھا کہ ایسے مخلص اور باوفا خدام آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہو رہے تھے۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ چودھری صاحب اس وقت خاص شہر جالندھر میں محرر پیشی تھے اس زمانہ میں آپ سارجنٹ تھے جن کو آجکل ہیڈ کنسٹبل کہا جاتا ہے حضرت اقدس اس وقت آپ کو جو خطوط لکھتے تھے ان پر پستہ اس طرح پر درج ہوتا۔بمقام جالندھر خاص۔محکمہ پولیس بخدمت مشفقی مکرمی منشی رستم علی صاحب محرر پیشی محکمہ پولیس کے پہنچے۔وحدت وجودیوں سے مباحثہ اُس زمانہ میں خصوصیت سے دوا بہ بست جالندھر اور اس کے ملحقہ اضلاع میں وحدت وجود یوں کی ایک روچل رہی تھی۔خاص شہر لودہا نہ میں بھی اس خیال اور عقیدہ کے اباحتی سے لوگ موجود تھے ان میں سب سے آگے نکلا ہوا ایک شخص سیف الرحمن نامی تھا اور وہ عام طور پر مولویوں