حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 241 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 241

حیات احمد ۲۴۱ جلد دوم حصہ دوم پھر ۱۸ / جنوری ۱۸۸۴ء کو بھی ایک مکتوب میں (جبکہ لودہانہ سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں آنا چاہتے تھے ) تحریر فرمایا کہ وو یہ عاجز معمولی زاہدوں اور عابدوں کے مشرب پر نہیں اور نہ اُن کی رسم اور عادت کے مطابق اوقات رکھتا ہے بلکہ ان کے پیرایہ سے نہایت بیگانہ اور دور ہے سَيَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَاءُ اگر خدا نے چاہا تو وہ قادر ہے کہ اپنے خاص ایما سے اجازت فرما دے۔ہر یک کو اس جگہ کے آنے سے روک دیں اور جو پردہ غیب میں مخفی ہے اس کے ظہور کے منتظر رہیں۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۸۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۴ء کا آغاز خدا تعالیٰ کی نئی برکات اور تازہ نشانات سے شروع ہوا۔قبولیت بڑھ رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی دشمنوں کے دل میں آتشِ حسد و مخالفت بھی بھڑک رہی تھی خصوصاً علماء لودہانہ سخت مخالفت پر آمادہ ہو چکے تھے (اس کا ذکر چونکہ پہلے ہو چکا ہے اب اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ) مگر حضرت اقدس ایک کامل سکون اور پورے استقلال اور ثبات قدم سے نہ صرف خود بلکہ اپنے مخلص احباب کو بھی تسلی دے رہے تھے کہ اس قسم کی مخالفتوں سے کچھ بگڑا نہیں سکتا ایک امر جس کی طرف میں نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے نہایت قابل غور ہے کہ آپ نے جیسے اپنے طریق و مشرب کو عام صوفیوں سے الگ اور جداگانہ بتایا اور اس کے متعلق یہ ظاہر کیا کہ یہ وہ طریق ہے جس کی خدا تعالی آپ کبھی کبھی بنیاد ڈالتا ہے اسی طرح جب آپ کی مخالفت کا ذکر آیا اور بعض مخلصین نے گھبرا کر لکھا کہ مخالفت شدید ہورہی ہے تو آپ نے ان کو تسلی اور سکینت کے خطوط لکھے تو اس میں بھی انبیاء علیہم السلام کے طرز پر ہی جواب دیا چنانچہ میر عباس علی صاحب نے جب آپ کو لودہانہ کی مخالفت کی شدت سے اطلاع دی اور گھبراہٹ اور تر د دظاہر کیا تو آپ نے اس کو لکھا کہ ڈ