حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 240
حیات احمد ۲۴۰ جلد دوم حصہ دوم انسان کو بغیر راست گوئی چارہ نہیں اور انسان سے خدا تعالیٰ ایسی کوئی بات پسند نہیں کرتا جیسے اس کی راست گوئی۔اور راست یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس عاجز سے ایک عجیب معاملہ ہے کہ اس جیسے شخص پر اس کا تفضل اور احسان ہے کہ اپنی ذاتی حالت میں احقر اور ارذل عباد ہے۔زہد سے خالی اور عبادت سے عاری اور معاصی سے پُر ہے۔سو اس کے تفضلات تحیر انگیز ہیں۔خدا تعالیٰ کا معاملہ اپنے بندوں سے طر ز واحد پر نہیں اور تو جہات اور اقبال اور فتوح حضرت احدیت کی کوئی ایک راہ خاص نہیں۔اگر چہ طرق مشہورہ ریاضات اور عبادات اور زہد اور تقویٰ ہے مگر ماسوا اس کے ایک اور طریق ہے جس کی خدا تعالیٰ کبھی کبھی آپ بنیاد ڈالتا ہے۔کچھ دن گزرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مجمع زاہدین اور عابدین ہے اور ہر ایک شخص کھڑا ہو کر اپنے مشرب کا حال بیان کرتا ہے اور مشرب کے بیان کرنے کے وقت ایک شعر موزوں اُس کے منہ سے نکلتا ہے جس کا اخیر لفظ قعود اور سجود اور شہود وغیرہ آتا ہے جیسے یہ مصرع تمام شب گزرانیم در قیام و سجودی چند زاہدین اور عابدین نے ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھے ہیں۔پھر اخیر پر اس عاجز نے اپنے مناسب حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے۔مگر اس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی اور جو شعر اس خواب کی مجلس میں پڑھنا تھا۔وہ بطور الہام زبان پر جاری ہو گیا اور وہ یہ ہے طریق زہد و تعبد ندانم اے زاہد خدائے من قدمم راند براہِ داؤد کے سویچ ہے کہ یہ نا چیز زہد اور تعبد سے خالی ہے۔اور بجز عجز ونیستی اور کچھ اپنے دامن میں نہیں۔اور وہ بھی خدا کے فضل سے نہ اپنے زور سے۔جو لوگ تلاش کرتے ہیں۔وہ اکثر زاہدین اور عابدین کو تلاش کرتے ہیں اور یہ بات اس جگہ نہیں۔“ لے ترجمہ۔میں نے تمام رات رکوع و سجود میں گزار دی ہے۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۸۶، ۵۸۷ مطبوعه ۶۲۰۰۸) سے ترجمہ۔اے زاہد! میں تو کوئی زہد و تعبد کا طریق نہیں جانتا میرے خدا نے خود ہی میرے قدم کو داؤد کے راستہ پر ڈال دیا ہے۔