حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 231
حیات احمد ۲۳۱ جلد دوم حصہ دوم گئے ہیں یا جو اعمال صالحہ کے ادا کرنے میں ستی وقوع میں آگئی ہے یا جو وصول اور سلوک الی اللہ کے طریق اور قواعد محفوظ نہیں رہے ان کو مجدداً تاکیداً بالاصل بیان کیا جائے۔وَقَالَ اللهُ تَعَالَى إِعْلَمُوْا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ـ یعنی عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ دل مر جاتے ہیں اور محبت الہیہ دلوں سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔اور ذوق اور شوق اور حضور اور خضوع نمازوں میں نہیں رہتا اور اکثر لوگ رو بدنیا ہو جاتے ہیں اور علماء میں نفسانیت اور فقراء میں عجب اور پست ہمتی اور انواع و اقسام کی بدعات پیدا ہو جاتی ہیں تو ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ صاحب قوت قدسیہ پیدا کرتا ہے اور وہ حجتہ اللہ ہوتا ہے اور بہتوں کے دلوں کو خدا کی طرف کھینچتا ہے اور بہتوں پر اتمام حجت کرتا ہے۔یہ وسوسہ بالکل نکما ہے کہ قرآن شریف و احادیث موجود ہیں پھر مجد د کی کیا ضرورت ہے یہی انہی لوگوں کے خیالات ہیں جنہوں نے کبھی غمخواری سے اپنے ایمان کی طرف نظر نہیں کی۔اپنی حالت اسلامیہ کو نہیں جانچا، اپنے یقین کا اندازہ معلوم نہیں کیا بلکہ اتفاقاً مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گئے اور پھر رسم و عادات کے طور پر لا اله الا اللہ کہتے رہے۔حقیقی یقین اور ایمان بجز صحبت صادقین میسر نہیں آ تا قرآن شریف تو اُس وقت بھی ہو گا جب قیامت آئے گی مگر وہ صدیق لوگ نہیں ہوں گے کہ جو کہ قرآن شریف کو سمجھتے تھے اور اپنی قوت قدسی سے مستعدین پر اس کا اثر ڈالتے تھے لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُون - پس قیامت کے وجود کا مانع صرف صدیقوں کا وجود ہے۔قرآن شریف خدا کی روحانی کتاب ہے اور صدیقوں کا وجود خدا کی ایک مجسم کتاب ہے جب تک یہ دونوں نمایاں انوار ایمانی ظاہر نہیں ہوتے تب تک انسان خدا تک نہیں پہنچتا۔فَتَدَبَّرُوا وَ تَفَكَّرُوا۔۔اس کا جواب جواب دوم میں آ گیا۔۴ اول قرآن شریف مجد د کی ضرورت بتلاتا ہے جیسے میں نے ابھی بیان کیا ہے۔قَالَ