حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 229 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 229

حیات احمد ۲۲۹ جلد دوم حصہ دوم کے قریب حاجی پور نام ایک گاؤں آباد ہے اور آپ ہمارے مخلص اور باصفا بھائی منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کے عزیزوں میں سے تھے۔انہوں نے حضرت کی خدمت میں آپ کے دعوی مجددیت کے متعلق خطوط لکھے جن میں آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ شریعت میں مجد د ہیں یا طریقت میں۔اور تجدید سے کیا مراد ہے۔اور قرآن مجید سے مجد دکا کیا ثبوت ہے۔اس مجد دکو پہلوں پر کوئی فضیلت ہے یا نہیں اور کیا آپ مجدد الف ثانی کے پیرو ہیں وغیرہ۔اسی قسم کے سوالات تھے آپ نے ان کے سوالات کے جواب میں حاجی صاحب کو ایک مکتوب لکھا (جس کو میں ذیل میں درج کرتا ہوں ) اس مکتوب سے قارئین کرام کو معلوم ہو جائے گا کہ (۱) آپ کی تجدید کی نوعیت کیا ہے (۲) مجددیت کے دعوئی کا کھلا کھلا اعلان (۳) اپنی فضیلت کا مسئلہ علاوہ بریں یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح نمایاں ہے کہ شروع ہی سے آپ کو اپنی ماموریت کے متعلق یہ عقیدہ تھا کہ آپ علی منہاج نبوۃ مامور ہیں چنانچہ جب کوئی سوال اس قسم کا پیدا ہوا تو آپ نے اس کا جواب اسی اصول پر دیا ہے جو نبیوں کا طریق ہے۔ایک مرتبہ میر عباس علی صاحب نے بعض مشکلات اور مخالفتوں کا ذکر کیا تو فرمایا:۔آپ جانتے ہیں کہ ہر ایک امر خدا وند کریم کے ہاتھ میں ہے کسی کی یاوہ گوئی سے کچھ بگڑتا نہیں اسی طرح پر عادت اللہ جاری ہے کہ ہر یک مہم عظیم کے مقابلہ پر کچھ معاند ہوتے چلے آئے ہیں۔خدا کے نبی اور اُن کے تابعین قدیم سے ستائے گئے ہیں۔سو ہم لوگ کیونکر سنت اللہ سے الگ رہ سکتے ہیں وہ ایڈا کی باتیں جو مجھ پر ظاہر کی جاتی ہیں ہنوز اُن میں سے کچھ بھی نہیں مکتوب مورخه ۱۲/ جون ۱۸۸۳ء۔مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۳۳ مطبوعه ۲۰۰۸ء) غرض آپ ایک غیر متزلزل یقین کے ساتھ اپنی بعثت کے متعلق اعلان کرتے آئے ہیں کہ