حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 223
حیات احمد ۲۲۳ جلد دوم حصہ دوم آیت یادر ہی اور وہ یہ ہے لَا رَادَّ لِفَضلِہ۔اور حقیقت میں خدا کے فضل کو کون روک سکتا ہے۔جس عمارت کو وہ بنانا چاہے اس کو کون مسمار کرے اور جس کو وہ عزت دینا چاہے اس کو کون ذلیل کرے“۔( مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ ۵۷۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (۱۳) (۲۲ را کتوبر ۱۸۸۳ء) آج اس موقع کے اثناء میں جبکہ یہ عاجز بغرض تصحیح کا پی کو دیکھ رہا تھا کہ بعالم کشف چند ورق ہاتھ میں دیئے گئے اور ان پر لکھا ہوا تھا کہ فتح کا نقارہ بجے پھر ایک نے مسکرا کر ان ورقوں کی دوسری طرف ایک تصویر دکھلائی اور کہا کہ دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری جب اس عاجز نے دیکھا۔تو وہ اسی عاجز کی تصویر تھی اور سبز پوشاک تھی۔مگر نہایت رعب ناک جیسے سپہ سالار مسلح فتح یاب ہوتے ہیں۔اور تصویر کے یمین و یسار میں حجۃ اللہ القادر وسلطان احمد مختار لکھا تھا۔اور یہ سوموار کا روز انیسویں ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ مطابق ۲۲ اکتوبر ۸۳ء اور ششم کا تک سمہ ۱۹۴۰ بکرم ہے۔( براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۵۱۵ - ۵۱۲ حاشیه در حاشیه نمبر۳، روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۱۵) (۱۴) تاریخ نزول نہیں دی گئی مگر مکتوب مورخہ ۲۴ اکتو بر ۱۸۸۳ء میں حضور نے لکھا ہے۔ایک مرتبہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ اگر تمام لوگ منہ پھیر لیں تو میں زمین کے نیچے سے یا آسمان کے اوپر سے مدد کر سکتا ہوں“ مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۷۹مطبوعہ ۶۲۰۰۸) (۱۵) اخیر ہفتہ اکتوبر ۱۸۸۳ء۔حضرت نے ۲۹ / اکتوبر ۸۳ء کے مکتوب میں اس کا ذکر فرمایا ہے، إِنْ تَمْسَسْكَ بِضُرٍ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ حمید براہین احمدیہ کی کاپی مراد ہے۔(عرفانی)