حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 14 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 14

حیات احمد ۱۴ جلد دوم حصہ اوّل زندہ کو دے دی اور اُس نے وہیں کھالی۔پھر جب وہ نیا زندہ اپنی قاش کھا چکا تھا تو میں نے دیکھا کہ آنحضرت کی گرسی مبارک اپنے پہلے مکان سے بہت ہی اونچی ہوگئی اور جیسے آفتاب کی کرنیں چھوٹتی ہیں ایسا ہی آنحضرت کی پیشانی مبارک متواتر چمکنے لگی کہ جو دین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی تب اسی نور کو مشاہدہ کرتے کرتے آنکھ کھل گئی۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِك (براہین احمدیہ حصہ سوم حاشیه در حاشیه صفحه ۲۴۸، ۲۴۹۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۴ ۲۷ تا ۲۷۶) صاف ظاہر ہے کہ یہ رویا آپ نے ایام طالب علمی میں دیکھی اس وقت کسی کتاب کی تصنیف اور تالیف کا آپ کو خیال تک بھی نہ تھا اور بعد کے واقعات نے بتایا کہ آپ مختصر ملا زمت اور اپنی جائیداد کے مقدمات میں مصروف ہو گئے چودہ پندرہ برس کے بعد ایک جدید سلسلہ پیدا ہوتا ہے اور آپ کو آریوں اور دوسرے مذاہب باطلہ کے لیڈروں سے مباحثات تحریری کا واقعہ پیش قیہ حاشیہ: - چنانچہ آپ نے اسی منشور محمدی میں صفحہ ۸ زیر عنوان ہمارے معزز دوست با وانرائن سنگھ صاحب کے لئے خوشخبری ایک مضمون شائع کرایا اور وہ یہ ہے:۔باوا صاحب نے پر چہ سفیر ہند یکم فروری ۱۸۷۹ء میں بمقابلہ ہمارے سوالات کے جو ہم نے تعلیم پنڈت دیانند صاحب پر کر کے خدا کا خالق ہونا اور نجات کا ابدی ہونا اور تناسخ کا باطل ہونا ثابت کیا تھا قبل اس کے جو ہمارے کسی سوال کا جواب عنایت فرماتے بمقابلہ ثبوت کلامِ الہی ہونے فرقان مجید کے سوال پیش کر دیا ہے افسوس ہے کہ اگر باوا صاحب اس مضمون پر جو سفیر ہند میں ہماری طرف سے چھپ رہا ہے کچھ بھی غور فرماتے تو ایسا سوال کرنا محض تحصیل حاصل جانتے کیونکہ ناظرین کو خوب معلوم ہے کہ ہم نے تو پہلے ہی اپنے مضمون کو ایسے ڈھنگ پر پیش کیا ہے جس سے قرآن اور وید کا مقابلہ اور موازنہ ہو کر ہر ایک کو معلوم ہو جائے کس کتاب کے اصول بچے اور کس کے کچے ہیں۔باوا صاحب کو اگر تحقیق منظور تھی تو ہمارے سوالات کا بحوالہ دید جواب دیا ہوتا تا کہ منصفین کو دونوں کتابوں کے مقابلہ پر نظر کر کے رائے دینے کا موقعہ کامل مل سکتا پر