حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 216 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 216

حیات احمد ۲۱۶ جلد دوم حصہ دوم جس روز آپ کا خط آیا اسی روز بعض عبارتیں آپ کے خط کی کسی قدر کمی بیشی سے بصورت کشفی ظاہر کی گئیں اور وہ فقرات زیادہ آپ کے دل میں ہوں گئے۔( مکتوب مورخه ۳ مارچ ۱۸۸۳ء مطابق ۲۲ ربیع الثانی ۱۳۰۰ھ۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۱۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (۲) یہ کشف ۱۸۸۳ء کے ابتدا ہی کا ہے گومکتوب پر تاریخ درج نہیں لیکن ابتدائے سال کے ضمن میں لکھا گیا ہے۔میر عباس علی صاحب قادیان آئے ہوئے تھے اور حضرت اقدس سے ملاقات کر کے واپس تشریف لے گئے مگر انہیں ایام میں جبکہ وہ قادیان میں مقیم تھے اور حضرت اقدس سے اخلاص و محبت سے گفتگو کرتے تھے حضرت اقدس پر کشفی رنگ میں ان کے متعلق جو کچھ ظاہر ہوا آپ نے اس کو بذریعہ خط اطلاع دی۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں:۔ایک بات واجب الاظہار ہے اور وہ یہ ہے کہ وقت ملاقات ایک گفتگو کی اثنا میں بنظر کشفی آپ کی حالت ایسی معلوم ہوئی کہ کچھ دل میں انقباض ہے اور نیز آپ کے بعض خیالات جو آپ بعض اشخاص کی نسبت رکھتے تھے حضرت احدیت کی نظر میں درست نہیں تو اس پر الہام ہوا۔قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ اس وقت یہ بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا مگر بہت ہی سعی کی گئی کہ خدا وند کریم اس کو دور کرے مگر تعجب نہیں کہ آئندہ بھی کوئی ایسا انقباض پیش آوے۔“ مکتوبات احمد یہ جلد ۱ صفحه ۵۲۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) نوٹ۔آخر میر عباس علی صاحب کو ایسا انقباض پیش آیا کہ وہ نہ صرف سلسلہ سے کٹ گئے بلکہ بطور ایک معاند اور مخالف کے کھڑے ہو گئے اور حضرت نے ان کو یہ اس وقت لکھا تھا جبکہ وہ اخلاص ووفا میں ترقی کر رہے تھے۔(عرفانی) (۳) اگر چہ اس کی کوئی تاریخ درج نہیں مگر حضرت صاحب نے ۱۸۸۳ء میں ہی اس کا کہہ اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔