حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 212 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 212

حیات احمد ۲۱۲ جلد دوم حصہ دوم 66 سے قادیان کی اراضیات کی تقسیم کا سوال ہوا اور وہ اس مقصد کے لئے فیروز پور ( جہاں ان ایام میں مرزا اعظم بیگ صاحب اکسٹرا اسٹنٹ تھے ) جانے لگے تو حضرت سے تقسیم کے اصول کے متعلق پوچھا۔آپ نے فرمایا کہ وہ جس طرح پر چاہیں تقسیم کر لیں تم دخل نہ دینا اور اس کو تسلیم کر لینا۔چنانچہ مرزا سلطان احمد صاحب نے باوجود یکہ اس خاندان کے ایک قدیم متوسل پنڈت خوشحال رائے نے جو اس وقت مرزا اعظم بیگ صاحب ہی کی ملازمت میں تھے مرزا سلطان احمد کو اس تقسیم کو قبول کرنے سے انکار کا بہ نظر خیر خواہی مشورہ دیا اور اس مشورہ کے صلہ میں اعظم بیگ صاحب کی ملازمت بھی چھوڑنی پڑی مگر مرزا سلطان احمد صاحب نے یہی جواب دیا کہ ” مرزا صاحب نے مجھے جو حکم دیا ہے میں اُسی کی تعمیل کروں گا “ اور انتظار کر کے چلے آئے۔میں یقین کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بعض غیبی اشارات کی بنا پر جانتے تھے کہ آگے چل کر یہ اراضیات میرے ہی خاندان میں آجائیں گی اس لئے ہر قسم کے تنازعات کو ختم کر دینے کے لئے ہر اس فیصلہ کو پسند کر لیا جو بظاہر نقصان کا موجب تھا۔غرض مرزا سلطان احمد صاحب عملاً اور فعلاً مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کے قائمقام اور جانشین تسلیم کر لئے گئے۔چنانچہ پنجاب چیفس کے مصنف نے حضرت اقدس کے خاندان کے تذکرہ میں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی وفات اور پھر مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات کے بعد جونوٹ دیا وہ حسب ذیل ہے:۔مرزا غلام مرتضیٰ جو ایک مشہور اور ماہر طبیب تھا ۱۸۷۶ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غلام قادر اس کا جانشین ہوا۔مرزا غلام قادر لوکل افسران کی امداد کے واسطے ہمیشہ تیار رہتا ہے اور اس کے پاس ان افسران کے جن کا انتظامی امور سے تعلق تھا بہت سے سرٹیفکیٹ تھے یہ کچھ عرصہ تک دفتر ضلع گورداسپور میں سپرنٹنڈ نے رہا۔اس کا اکلوتا بیٹا صغرسنی میں فوت ہو گیا اور اس نے اپنے بھتیجے مرزا سلطان احمد کو اپنا متبنی بنا لیا تھا جو مرزا غلام قادر کی وفات یعنی ۱۸۸۳ء سے خاندان کا بزرگ خیال کیا جاتا ہے۔الآخرہ حاشیہ۔مرزا غلام قادر صاحب نے مختلف محکموں میں ملازمت کی تھی وہ نہر میں ضاعدار تھے محکمہ پولیس میں بھی رہے اور اوائل عمر میں ٹھیکیداری بھی کرتے رہے آخر میں سپر نٹنڈنٹ ضلع تھے۔( عرفانی) وو