حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 202
حیات احمد جلد دوم حصہ دوم کئے جو خدا تعالیٰ نے آپ کو تفہیم کئے۔اسی سلسلہ میں اس امر پر بھی بحث کی کہ خوارق کیونکر ملتے ہیں؟ استدراج اور خوارق میں کیا فرق ہے۔مجد دامت میں کب آتے ہیں اور ان کا مقام کیا ہوتا ہے۔امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ کبھی کبھی آخر صدی پر اصلاح اور تجدید دین کے لئے اس شان کے لوگ مبعوث ہوتے ہیں اور دنیا ان کے وجود سے نفع اٹھاتی ہے اور دین زندہ ہوتا ہے۔مسجد مبارک کے متعلق پانچ مرتبہ الہام کی اطلاع اور ایک تاریخ بنائے مسجد کا الہام تحریر فرمایا ہے اسی خط میں اللہ تعالیٰ کے اذن عام سے بعض دوسرے الہامات کا ذکر کیا ہے جو آپ کی بعثت و ماموریت پر آیات ہیتہ ہیں۔(۲۲) ۱۲ / دسمبر ۱۸۸۳ء مسئلہ دعا پر ایک لطیف مکتوب تحریر فرمایا۔جس میں دعا اور تقدیر اور دوسرے اہم مطالب کو واضح کر کے بیان فرمایا۔(۲۳) ۱۴ اکتو بر ۱۸۸۳ء حقیقت نفس اور معرفت نفس پر ایک لطیف مکتوب آپ نے لکھا جس میں وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ کی لطیف تغییر فرمائی اور بتایا کہ نفس انسانی ایک نسخہ جامع جميع اسرار عالم ہے۔پھر اسی ضمن میں نجات کی حقیقت اور تزکیہ نفس کے ساتھ اس کا تعلق بتایا اور یہ بھی بیان کیا کہ تزکیہ نفس دو قسم کا ہوتا ہے۔مِنْ حَيْنِيَّةِ العِلم اور مِنْ حَيْنِيَّةِ العَمَل۔اس تقسیم کی حقیقت کے اظہار میں معرفت ربانی کے اسرار کو عام فہم الفاظ میں بیان کر کے ارشاد فرمایا ہے جس سے پایا جاتا ہے کہ جب انسان بقا باللہ کے مقام میں ہوتا ہے تو اس پر کئی قسم کے الہامات ہوتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے ہی تجربہ اور مقام کو کھول رہے ہیں گو اس وقت کوئی دعویٰ آپ کا نہ تھا۔(۲۴) ۲۴ اکتوبر ۱۸۸۳ء آپ نے بصراحت اپنی کامیابی کی پیشگوئی کی۔اور ایک بصیرت کے ساتھ لکھا کہ اس کام کی خداوند کریم نے اپنے ہاتھ سے بنا ڈالی ہے اور ارادہ الہی اس بات کے متعلق ہو رہا ہے کہ شوکت اور شان دین کی ظاہر کرے اور اس بارہ میں اس کی طرف سے کھلی کھلی بشارتیں عطا ہو چکی ہیں سو جس بات کو خدا انجام دینے والا ہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔“ پھر اسی مکتوب میں غیرت نفس کی حقیقت کو بیان کیا اور فرمایا کہ ” مومن کے لئے لازم ہے کہ