حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 201
حیات احمد ۲۰۱ جلد دوم حصہ دوم کی۔اور اس کے ضمن میں حجاب کی قسموں ( بدیہی و نظری ) کی تشریح فرمائی۔جذبہ عشق الہی کے نتائج۔سالک کا پہلا اصل وغیرہ مطالب بیان کرتے ہوئے اپنی ماموریت اور دشمنوں کی یورش کا ذکر کر کے مخالفین کے کفر کے فتویٰ پر ناز کیا۔کہ اگر اتباع رسول کا نام کفر ہے تو زہے قسمت چنانچہ فرمایا کہ: وو ہم عاجز بندوں کی کیا حقیقت اور بضاعت ہے وہی ایک ہے جس نے اپنے عاجز اور ناتواں بندہ کو ایک خدمت کے لئے مامور کیا ہے۔اب دیکھئے کب تک اس ربّ العرش تک اس عاجز کی آہیں پہنچتی ہیں۔آپ نے لکھا تھا کہ بعض احباب علماء کی طرف سے یہ فتوی لائے ہیں کہ اتباع قَالَ الله وَقَالَ الرَّسُول اور ترجیح اُس کی دوسرے لوگوں پر کفر ہے مگر یہ بندہ عاجز کہتا ہے کہ زہے سعادت کہ کسی کو یہ کفر حاصل ہو۔ے گر این کفرم بدست آید بر و قربان کنم صد دین کے اس کی تائید میں آپ نے ایک دوسرے موقع پر فرمایا۔بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کا فرمے (۱۹) ۳۰/ اگست ۱۸۸۳ء مسجد مبارک کے متعلق الهام بروز سه شنبه (۲۸/ اگست ۱۸۸۳ء الہام ہوا کہ فِيهِ بَرَكَاتُ لِلنَّاسِ - فتوح الغیب کے صفحہ اس کی تشریح لکھی گئی۔(۲۰) ۶ ستمبر ۱۸۸۳ء فتوح الغیب کے صفحہ ۲۴ کی تفسیر میں كُونُوا مَعَ الصَّادِقِین کی لطیف تفسیر اور اس میں عہد حاضرہ کی اسلامی حالت کا نقشہ بھی بیان کیا کہ یہ وہ زمانہ ہے جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ ایک زمانہ آئے گا کہ میری امت کے لوگ نمازیں پڑھیں گے روزے بھی رکھیں گے مسجدوں میں بھی جمع ہوں گے پر اُن میں کوئی مومن نہ ہوگا۔(۲۱) ۱۳ ستمبر ۱۸۸۳ ء ایک حدیث نبوی " يَعْرِفُهُمُ غَيْرِی“ کے وہ معنی آپ نے بیان ترجمہ: اے اگر ایسا کرنے سے کفر لازم آتا ہے تو میں اس پر سو دین قربان کرنے کو تیار ہوں۔ے خدا کے عشق کے بعد میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور ہوں اگر یہ کفر ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں۔