حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 188 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 188

حیات احمد ۱۸۸ جلد دوم حصہ دوم چاہتے تھے کہ بہتر ہے اس تقریب سے فائدہ اٹھایا جاوے اور آریہ سماج کے اصولوں اور تعلیم اسلام کا بھی مقابلہ ہو جاوے۔اس لئے آپ لیکھرام کو بار بار اس طرف لانا چاہتے تھے کہ تم اپنی مذہبی سچائی کے دلائل پیش کرو اور ہم قرآن کریم کی آیتوں سے ثابت کریں گے۔آپ وہی اصل پیش کرتے تھے جس نے مذہب کے متعلق مناظرات میں ایک انقلاب پیدا کر دیا یعنی جو دعوئی ہو وہ اپنی مذہبی کتاب سے پیش کرو اور جو دلیل ہو وہ بھی اسی کتاب سے دو۔اسلام کے مقابلہ میں ہر ایک مذہب اس اصل کے سامنے شکست کھا جاتا ہے۔کسی بڑے سے بڑے عالم کو آج تک جرات نہیں ہوئی کہ اس معیار پر اپنے مذہب کی صداقت ثابت کرے لیکھر ام بیچارے کی تو حقیقت ہی کیا تھی؟ وہ اس سے گریز کرتا۔اس لئے حضرت کے خطوط کا جواب دیتے وقت چالاکی سے اصل مطالبہ کا ذکر بھی نہ کرتا اور اپنے جاہل ہم نشینوں کو خوش کرنے کے لئے ہنسی اور ٹھٹھے سے بار بار آسمانی نشان طلب کرتا۔۱۳؍ دسمبر کو اس نے ایک خط لکھا جس میں ۱۴ یا ۱۵ کو اپنے قادیان سے روانہ ہونے کا ذکر کیا تھا حضرت نے پھر اسے مفصل خط لکھا مگر وہ اس طرف نہ آیا۔آخر میں اس کی شوخی بڑھتی گئی اور اس نے حضرت اقدس کو ایک خط لکھا جو اس کے لئے پیغام موت تھا۔حضرت اقدس نے اس خط کا آخری جواب اس کو دے دیا ( میں یہ دونوں خط حاشیہ میں دے دیتا ہوں۔عرفانی) ان خطوط کو پڑھ لینے کے بعد یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ لیکھرام نے بالآخر خَيْرُ الْمَاكِرِين سے نشان مانگا اور خدا تعالیٰ نے اُسے اسی رنگ کا نشان دیا۔یعنے اُس کی موت کا نشان دیا اور ایسا نشان کہ آج تک اس کے قاتل کا پتہ نہ لگ سکا۔لیکھر ام کے متعلق ایک معاہدہ کے بعد جس پر لیکھرام کے دستخط ہوئے تھے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو خدا تعالیٰ کی وحی سے لیکھرام کی قضا و قدر کے متعلق ایک پیشگوئی کرنے کا اعلان کیا۔اس پر لیکھرام نے لکھا کہ میں آپ کی پیشگوئیوں کو واہیات سمجھتا ہوں۔میرے حق میں جو چاہو شائع کرو میری طرف سے اجازت ہے لے حاشیہ۔مرزا صاحب۔کندن کوہ (اس کے آگے ایک شکستہ لفظ ہے جو پڑھا نہیں جاتا ہے ) افسوس کہ آپ نے قرآنی اسپ ، خود کو اسپ اور اوروں کے اسپ کو خچر قرار دیتے ہیں۔میں نے ویدک اعتراض کا