حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 187 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 187

حیات احمد جلد دوم حصہ دوم دیتے۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھے نہایت عمدہ سیب دئے میں لے کر گیا پنڈت لیکھرام کا بھی معمول ہو گیا تھا کہ جب میں واپس جاتا تو ضرور پوچھتا کیا لائے ہو؟ میں نے جب کہا کہ سیب لایا ہوں تو اس نے گویا للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر کہا کہ لاؤلاؤ میں کھاؤں۔پنڈت موہن لال کہتے ہیں کہ میں نے ان کو ہنسی سے کہا کہ دشمن کے گھر کی چیز تم کو نہیں کھانی چاہئے۔تو اُس نے جھٹ میرے ہاتھ سے سیب لے لیا اور کھانا شروع کر دیا۔غرض انہوں نے کہا کہ حضرت صاحب ہمیشہ محبت اور مروت سے پیش آئے۔اور یہ بھی کہ لیکھرام کو مرزا امام الدین وغیرہ محض اس لئے لے آئے کہ رونق رہے گی اور چھیڑ چھاڑ جاری ہوگی۔قادیان میں خط و کتابت کا انجام غرض لیکھر ام قادیان آیا اور خط و کتابت جاری ہوئی مگر اس کا کوئی عملی نتیجہ پیدا نہیں ہوتا تھا۔لیکھرام اپنے خطوط میں اپنی شوخی کے سبب سے کوئی نہ کوئی بات اسلام پر اعتراض کے رنگ میں کہہ دیتا تھا۔حضرت اقدس اپنے جواب میں اس کو تحقیقی جواب دیتے آپ یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح سے یہ اسلام کی صداقت کو سمجھ لے لیکن اس کا یہ مقصد نہیں تھا وہ ہر رنگ میں الٹا چلتا اور اپنی مجلسوں میں بھی اسلام پر سوقیانہ حملے کرتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی اطلاع مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کو بھی ہوئی اور ان کو غیرت دینی کے لئے اس قدر جوش آیا کہ انہوں نے لیکھرام کو مباحثہ کا چیلنج دے دیا۔یہ شوخی لیکھرام کی مسئلہ جنت پر تھی۔قادیان کے مسلمانوں میں بھی جوش پیدا ہو گیا اور مرزا سلطان احمد صاحب پورے طیار ہو کر بازار کو چلے بھی گئے مگر عقلمند ہندوؤں نے سمجھا کہ اس میں خیر نہ ہو گی۔اس وقت کو ٹلا دیا اور لیکھرام کو باہر نہ آنے دیا۔آخر دسمبر ۱۸۸۵ء کے اوائل میں یہ خط و کتابت نتیجہ کے قریب آنے لگی۔لیکھرام نے پہلے تو سال کے لئے چوبیس سو روپیہ معاوضہ ہی طلب کیا تھا اور حضرت اقدس نے بھی مان ہی لیا تھا۔لیکن اب قادیان آنے کے بعد معاوضہ کی رقم صرف تمہیں روپیہ ماہوار پر آ گئی۔حضرت اقدس