حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 184 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 184

حیات احمد ۱۸۴ جلد دوم حصہ دوم میں متعد د خطوط طرفین سے لکھے گئے۔میں نے ان مکتوبات کو جلد دوم میں شائع کر دیا ہے۔یہ خط و کتابت جولائی ۱۸۸۵ ء تک جاری رہی۔بالآخر حضرت اقدس نے اتمام حجت کے لئے لیکھرام کی اس شرط کو بھی منظور کر لیا کہ باوجودیکہ وہ ایسی عزت اور حیثیت نہیں رکھتا جو مشتہرہ اعلان ۲۴۰۰ مطبوعہ مرتضائی پریس میں بیان کی گئی ہے تاہم اس کے اصرار پر چوبیں منور کو پیہ بھی دینا منظور کر لیا تا کہ وہ مقابلہ میں آجاوے اور اس پر اتمام حجت ہو چنانچہ خط جو ۷ار جولائی ۱۸۸۵ء کو آپ نے لکھا اس میں تحریر فرمایا کہ ہر چند ہم نے کوشش کی مگر ہم پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ آپ ان معزز اور زی مرتبت لوگوں میں سے ہیں جو بوجہ حیثیت عرفی اپنی کے دوسو روپیہ ماہوار پانے کے مستحق ہیں مگر چونکہ آپ کا اصرار اپنے اس دعوئی پر غایت درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ فی الحقیقت میں ایسا ہی عزت دار ہوں اور پیشاور بمبئی تک جس قدر آریہ سماج ہیں وہ سب مجھے معزز اور قوم میں سے ایک بزرگ اور سرگروہ سمجھتے ہیں اس لئے آپ کی طرف لکھا جاتا ہے کہ اگر آپ سچ مچ ایسے ہی عزت دار ہیں تو ہم آپ کی درخواست منظور کر لیتے ہیں اور جہاں چاہو چو میں سوار و پیہ جمع کرانے کو تیار ہیں۔۲۴۰۰ مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۷۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اس میں حضرت اقدس نے یہ بھی کہا کہ اگر نشان دیکھ کر تم مسلمان نہ ہو تو بطور تاوان چوٹیں سو روپیہ ادا کرو اور اسے تم کسی جگہ داخل کرا دو۔اس مقصد کے لئے آپ نے بیس یوم کی میعاد مقرر کی۔لیکن نتیجہ کیا ہوا آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پر بلایا ہم نے پنڈت لیکھرام نے مقابلہ میں آنے کا تو عزم کیا ہی نہ تھا وہ تو لہو لگا کر شہیدوں میں ملنا چاہتا تھا۔نہ اس نے چو ہمیں سو روپیہ جمع کرانے کا وعدہ کیا اور نہ اس شرط کو قبول کیا۔آخر وہ مدت مقر رگز رگئی۔اس اثناء میں پنڈت لیکھرام نے یہ چاہا کہ میں قادیان چلا جاؤں اور پھر مشتہر کر دوں ا مکتوبات احمد شائع کردہ نظارت اشاعت مطبوعہ ۲۰۰۸ء میں یہ خطوط جلد ا کے صفحہ ۶۵ تا ۷۷ پر ہیں۔