حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 175 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 175

حیات احمد ۱۷۵ جلد دوم حصہ دوم تھے اور اسی وجہ سے ایک مرتبہ رسالہ برادر ہند میں بھی ان کے لئے اعلان چھپوایا گیا تھا مگر ان کی طرف سے کبھی صدا نہ اٹھی یہاں تک کہ خاک میں یا راکھ میں جا ملے۔صفحه ۵۳۴ تا ۵۳۶ حاشیہ نمبر۱۱۔( براہین احمدیہ ہر چہار تصص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۳۹ تا ۶۴۱ حاشیہ نمبر۱۱) پنڈت دیانند کی موت کی خبر اور پیشگوئی کے آریہ سماج قادیان کے ممبر گواہ تھے ان پر مختلف اوقات میں بیرونی آریوں نے زور ڈالا کہ وہ اس کی تردید یا تکذیب شائع کریں انہوں نے اپنی قوم کے طعن سن لئے مگر حق کو چھپانے کے الزام سے بچالیا۔پنڈت دیا نند کی وفات کی پیشگوئی اور اس کے پورا ہونے کے متعلق حضرت نے مختلف کتابوں میں ذکر کیا ہے خصوصاً حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۲۱ اور نزول المسیح صفحہ ۱۵۸ پر۔میں اس پیشگوئی کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سمجھتا اور نہ اس کا یہ محل ہے یہ ذکر واقعات کے ضمن میں مجھے کرنا پڑا ہے البتہ میں اس کتاب کے پڑھنے والے سے یہ کہوں گا کہ وہ اس امر پر غور کرے کہ یہ کیا بات ہے پنڈت دیانند صاحب کی حضرت اقدس کے ساتھ تحریری مباحثات کی بنیاد ۷۹۔۱۸۷۸ء میں پڑ چکی تھی اور اس وقت کے اخبارات میں یہ سوال و جواب شائع ہوتے رہے۔ودیا پر کا شک امرتسر جو آریہ سماج کے مشہور سیکرٹری باوا نرائن سنگھ کی ادارت میں شائع ہوتا تھا سفیر ہند جو عیسائیوں کا اخبار تھا جس کے ایڈیٹر پادری رجب علی صاحب تھے اور ہندو باند ہو برا ہمو سماج کے اس وقت کے مشہور لیڈر پنڈت شونرائن اگنی ہوتری کی ادارت میں نکلتا تھا ان کے سوا اور دوسرے اخبارات نے بھی دلچپسی لی۔پنڈت شونرائن اگنی ہوتری جی نے تو حضرت کی فتح کا کھلم کھلا فیصلہ شائع کیا اور لالہ جیون داس سیکرٹری آریہ سماج لاہور نے ایک خاص مسئلہ میں حضرت کے اعتراضات کو پڑھ کر پنڈت دیانند جی صاحب سے اپنا اختلاف مشتہر کر دیا۔یہ واقعات نہایت اہم تھے اور ہیں۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۳۱ ۲۳۲ اور روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۳۶ پیشگوئی نمبر ۳۷