حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 174
حیات احمد ۱۷۴ جلد دوم حصہ دوم کے ارسال کرنے کا ذکر کیا ہے اور ان خطوط میں ان کو آسمانی نشانات کے لئے بھی دعوت دے کر قادیان بلایا تھا۔چنانچہ آپ نے لکھا کہ :- اگر ان دونوں قسم کے ثبوت میں سے کسی قسم کے ثبوت میں شک ہو تو اسی جگہ قادیان میں آکر اپنی تسلی کر لینی چاہئے اور یہ بھی پنڈت صاحب کو لکھا گیا کہ معمولی خرچ آپ کی آمد و رفت کا اور نیز واجبی خرچ خوراک کا ہمارے ذمہ رہے گا اور وہ خط ان کے بعض آریوں کو بھی دکھایا گیا اور دونوں رجسٹریوں کی ان کی دستخطی رسید بھی آگئی پھر انہوں نے حُب دنیا اور ناموس دنیوی کے باعث سے اس طرف ذرا بھی توجہ نہ کی یہاں تک کہ جس دنیا سے انہوں نے پیار کیا اور ربط بڑھایا تھا آخر بصد حسرت اس کو چھوڑ کر اور تمام درم و دینار سے یہ مجبوری جدا ہو کر اس دارالفنا سے کوچ کر گئے اور بہت سی غفلت اور ظلمت اور ضلالت اور کفر کے پہاڑ اپنے سر پر لے گئے اور ان کے سفر آخرت کی خبر بھی جو اُن کو ۳۰ اکتوبر ۱۸۸۳ء میں پیش آیا تخمیناً ۳ ماہ پہلے خداوند کریم نے اس عاجز کو دے دی تھی چنانچہ یہ خبر بعض آریہ کو بتلائی بھی گئی تھی۔خیر یہ سفر تو ہر ایک کو در پیش ہے اور کوئی آگے اور کوئی پیچھے اس مسافر خانہ کو چھوڑنے والا ہے مگر یہ افسوس بڑا افسوس ہے کہ پنڈت صاحب کو خدا نے ایسا موقع ہدایت پانے کا دیا کہ اس عاجز کو ان کے زمانہ میں پیدا کیا مگر وہ باوصف ہر طور کے اعلان کے ہدایت پانے سے بے نصیب گئے۔روشنی کی طرف ان کو بلا یا گیا انہوں نے کم بخت دنیا کی محبت سے اس روشنی کو قبول نہ کیا اور سر سے پاؤں تک تاریکی میں پھنسے رہے۔ایک بندہ خدا نے بارہا ان کو ان کی بھلائی کے لئے اپنی طرف بلا یا مگر انہوں نے اس طرف قدم بھی نہ اٹھایا اور یونہی عمر کو بے جا تعصبوں اور نخوتوں میں ضائع کر کے حباب کی طرح ناپدید ہو گئے حالانکہ اس عاجز کے دس ہزار روپیہ کے اشتہار کا اول نشانہ وہی