حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 165
حیات احمد ۱۶۵ جلد دوم حصہ دوم فِيهِ بَرَكَاتُ لِلنَّاسِ یعنی اس میں لوگوں کے لئے برکتیں ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ “ مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۵۵ مطبوعه ۶۲۰۰۸) پھر ۱۳ ستمبر ۱۸۸۳ء کے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ :۔مسجد کے بارے میں جو خدا وند کریم کی طرف سے الہام ہوا تھا جس میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تاریخ موجود ہے یہ فقرہ مُبَارِكْ وَّ مُبَارَكٌ وَكُلُّ اَمْرٍ مُبَارَكِ يُجْعَلُ فِيْهِ خداوند تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ اسی مسجد مبارک کے بارے میں پانچ مرتبہ الہام ہوا منجملہ ان کے ایک نہایت عظیم الشان الہام ہے جس کے ایک فقرہ سے آپ کو پہلے اطلاع دے چکا ہوں مگر بعد اس کے دوسرا فقرہ بھی الہام ہوا۔اور وہ دونوں فقرہ یہ ہیں فِيْهِ بَرَكَاتٌ لِلنَّاسِ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا یعنی اس میں لوگوں کے لئے برکتیں ہیں جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں آ گیا۔علماء ظاہر شاید اس پر اعتراض کریں کہ یہ تو بیت اللہ خانہ کعبہ کی شان میں وارد ہے۔مگر وہ لوگ برکات وسیعہ حضرت احدیت سے بے خبر ہیں اور معذور ہیں۔( مکتوب مورخه ۳ ار ستمبر ۱۸۸۳ء۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۶۶ مطبوعه ۲۰۰۸ء) مسجد کی تعمیر اکتو بر ۱۸۸۳ ء تک جاری رہی ہے چنانچہ آپ نے ۹/اکتوبر ۱۸۸۳ء کو جو مکتوب میر عباس علی صاحب کو لکھا اس میں تحریر فرمایا کہ مسجد میں ابھی کام سفیدی کا شروع نہیں ہوا۔خدا تعالیٰ چاہے تو انجام کو پہنچ جائے گا۔آج رات (شب درمیانی ۱۹۹۸ اکتو بر۸۳ء۔عرفانی ) کیا عجیب خواب آئی