حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 162 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 162

حیات احمد ۱۶۲ جلد دوم حصہ دوم جس میں اس مسجد کی تعمیر کی طرف اشارہ وحی الہی "أَلَمُ نَجْعَل لَّكَ سَهُولَةٌ فِي كُلِّ أَمْرٍ بَيْتُ الْفِكْرِ وَ بَيْتُ الذِكْرِ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا“ میں ہے۔( براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۵۵۸ حاشیه در حاشیہ نمبر۴۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۶۶) ترجمہ۔کیا ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا اور جو شخص بیت الذکر میں باخلاص و مقصد بقید صحت نیت وحسن ایمان داخل ہوگا وہ سوئے خاتمہ سے امن میں آ جائے گا۔بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے کہ جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا اسی مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے جس کے حروف سے بنائے مسجد کی تاریخ بھی نکلتی ہے اور وہ یہ ہے۔مُبَارِكْ وَّ مُبَارَكٌ وَكُلُّ امْرِ مُبَارَكِ يُجْعَلُ فِيْهِ - یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہر ایک امر مبارک اس میں کیا جاوے گا۔اس وحی الہی کی تاریخ کا تعین تو میں نہیں کر سکتا خود حضرت نے اس نشان کو بیان کرتے وقت ۱۸۸۰ ۱۸۸۲ ء لکھا ہے۔اور یہ انداز ہے لیکن آپ کے مکتوب وغیرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ الہامات گواسی زمانہ کے ہوں لیکن تعمیر مسجد کے لئے آپ کی توجہ ۱۸۸۳ء کی پہلی ششماہی میں ہوئی۔تعمیر مسجد کی زمین اور سامان تعمیر مسجد کے لئے حضور نے اس جگہ کو بیت الفکر و بیت الذکر کے باہم قریبی ذکر اور ایک ہی الہام میں ہونے کی ترتیب کی وجہ سے پسند فرمایا۔یہاں کوئی جگہ تو تھی نہیں اس لئے آپ نے اس کو چہ کو مسقف فرمایا جو احمد یہ چوک بازار اور مسجد اقصیٰ کو جاتا ہے جس جگہ آج کل دفتر محاسب بقیہ حاشیہ:۔عہدہ برآ ہوتا ہوں ( مجھے میاں جان محمد مرحوم سے بارہا ملنے کا اتفاق ہوا اور اُس کی مجلس میں ایک ذوق ایمانی کو محسوس کیا تفصیلی حالات پھر اگر خدا نے چاہا تو لکھوں گا۔ورنہ اپنے مرحوم بھائی کی زندگی کے لئے اس قدر کافی ہے۔(عرفانی)