حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 161
حیات احمد ۱۶۱ جلد دوم حصہ دوم مسجد مبارک کی تعمیر آپ نے اس لئے نہیں کی تھی کہ گھر سے مسجد اقصیٰ تک جانے میں آپ - کو تکلیف ہوتی تھی بلکہ آپ کا معمول تھا کہ مسجد میں عموماً نماز سے پہلے جاتے اور عصر کی نماز کے بعد على العموم مسجد اقصیٰ ہی میں ٹہلتے رہتے اور مغرب کی نماز پڑھ کر آتے اور پھر عشاء کی نماز کے لئے جاتے۔کبھی کبھی عصر کی نماز کے بعد سیر کو بھی تشریف لے جاتے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی وحی نے اس کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے اپنے گھر کے اس چوبارہ کے ساتھ جہاں آپ تصنیف کا کام کیا کرتے تھے تعمیر مسجد کا ارادہ فرمایا۔یہ چوبارہ مسجد مبارک کے شمالی جانب میں ہے وہ وحی بقیہ حاشیہ۔صحبت کی وجہ سے خوب واقف تھے۔کسی قدر طب بھی جانتے تھے۔جو انہوں نے حضرت اقدس اور آپ کے والد بزرگوار کی صحبت میں حاصل کی تھی۔حضرت کے ساتھ ان کو خصوصیت سے محبت تھی اور اکثر سفروں میں آپ کے ساتھ رہتے۔بعض سفروں میں ان کا بھائی عبدالغفار (غفا را) بھی رہا کرتا۔میاں جان محمد صاحب صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔حضرت اقدس کے ساتھ محبت واخلاص کی وجہ سے ان کو بعض اوقات حضرت کے شرکاء کی طرف سے خطرناک تکالیف اٹھانی پڑیں۔اُس کو جسمانی اذیت دی گئی مگر اُس نے اپنے عہد وفا کو نباہا۔جامع مسجد کے وہ امام بھی تھے اور حضرت اقدس ان کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔نہایت مخلص اور عملی مسلمان تھے۔حضرت اقدس جب شادی کی تقریب پر دہلی تشریف لے گئے تو میاں جان محمد ساتھ نہ تھے اور لالہ ملا وامل ساتھ تھے۔ان کو وہاں سے ایک خط قادیان لکھا جس سے لالہ ملا وامل کے متعلق ایک غلط فہمی ان کے گھر والوں کو پیدا ہو گئی۔آخر وقت تک اس نے حضرت صاحب کے ساتھ اپنی عقیدت وارادت کا عملی ثبوت دیا۔نہایت بے نفس خدمت گزار اور شریف النفس انسان تھا۔اور اپنے رتبہ کے لحاظ سے اُس نے جو قربانی کی وہ نہایت شاندار تھی۔حضرت اقدس تو ایک گوشہ گزینی کی زندگی بسر کرتے تھے۔دنیوی اقتدار واثر آپ کے بڑے بھائی یا ان کے بعد آپ کے عم زاد بھائیوں کے حصہ میں تھا۔اور اس زمانہ کے لحاظ سے ان کی قوت اور سخت گیری سے ہر شخص ڈرتا تھا۔مگر میاں جان محمد نے اپنے تمام مفاد کو قربان کر دیا اور ہر قسم کی مصیبت اور ذلت کو اس راستہ میں اختیار کر لینے کا عملی ثبوت دیا۔ہر شخص اس قربانی کا اندازہ نہیں کر سکتا۔میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ میاں جان محمد مرحوم کے اس ذکر خیر سے ایک اور شہادت حقہ کی ادائیگی سے