حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 160 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 160

حیات احمد 17۔جلد دوم حصہ دوم قاضی خواجہ علی صاحب مرحوم حضرت مولوی عبدالقادر مرحوم اور حضرت نواب علی محمد خان صاحب مھجری مرحوم دوست آپ کے استقبال کے لئے اسٹیشن پر موجود تھے۔ان ایام میں آپ کے متعلق لودہا نہ میں خاص طور پر جذبات محبت و اخلاص پائے جاتے تھے اور یہی چیز تھی جس نے لودہانہ کے مولوی صاحبان کو نعل در آتش کر رکھا تھا۔آپ کو یہ کبھی خیال بھی نہیں ہوتا تھا کہ سٹیشن پر لوگ استقبال کے لئے آئیں بلکہ آپ کی طبیعت پر تو خلوت گزینی اور تنہائی کا اتنا اثر غالب تھا کہ آپ خلوت ہی چاہتے تھے۔بہر حال سٹیشن پر ان دوستوں نے آپ کا استقبال کیا۔اس مرتبہ بھی آپ نے لودہانہ میں زیادہ عرصہ تک قیام نہیں کیا ایک دو دن ٹھہر کر واپس چلے آئے۔غرض میر عباس علی صاحب کی عیادت تھی اور چونکہ مریضوں کی عیادت سنت ہے اور اس کے ذریعہ انسان بہت سی اخلاقی خوبیاں اور کمالات حاصل کرتا ہے۔آج کل یہ طریق مفقود ہو گیا ہے اور یہ ایک ایسی رسم ہوگئی ہے جس میں انگریزی تہذیب کا رنگ ہے۔حضرت اقدس کے عزم کو دیکھئے کہ قادیان سے ایک مریض دوست کی عیادت کے لئے لو ہانہ تشریف لے گئے۔اس طرح آپ ایک مرتبہ نہایت خاموشی کے ساتھ حضرت حکیم الامت مولانا نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے جموں تشریف لے گئے تھے۔غرض لو دہانہ کا یہ دوسرا سفر تھا جو اسی سال ۱۸۸۴ء میں ہوا۔مسجد مبارک کی تعمیر ۱۸۸۳ء کے واقعات میں سے ایک عظیم الشان واقعہ مسجد مبارک کی تعمیر بھی ہے۔جب تک مسجد مبارک تعمیر نہیں ہوئی تھی حضرت مسیح موعود تمام نمازیں مسجد اقصیٰ میں پڑھا کرتے تھے کبھی کبھی آپ بھی امامت کرا دیتے۔عام طور پر میاں جان محمد مرحوم نماز پڑھایا کرتے تھے اور وہ امام مسجد قادیان کہلاتے تھے۔حاشیہ۔میاں جان محمد صاحب مرحوم قادیان کے ایک مشہور کشمیری خاندان کے رکن تھے جن کے بزرگ ہمیشہ حضرت اقدس کے خاندان کے ساتھ اپنی ہجرت از کشمیر کے ایام سے ان کے احسانات کی وجہ سے مخلص اور وفادار رہے میاں جان محمد بقدر ضرورت تعلیم یافتہ تھے اور اسلامی دینیات سے حضرت مسیح موعود کی