حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 8
حیات احمد جلد دوم حصہ اوّل حضرت مرزا صاحب کی شخصیت غیر معمولی نظر آنے لگی اور ادھر حضرت نے اسلام پر حملوں کی کثرت دیکھ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ اسلام کی صداقت کے اظہار و اعلان کو زندگی اور موت کا سوال بنا دیا جاوے چنانچہ آپ نے براہین احمدیہ کی اشاعت کا ارادہ اس نہج پر کیا کہ اس کے ساتھ دس ہزار روپیہ انعام کا اعلان کیا جاوے جو اس شخص کا حق ہو گا جو دلائل مندرجہ براہین کے پانچویں حصہ تک تو ڑ کر دکھاوے۔یا پانچویں حصہ کے برابر اسی قسم کے دلائل اپنی کتاب سے پیش کرے۔اس سے دلائل کی قوت اور اتمام حجت کی نوعیت کا اندازہ آسانی سے ہوسکتا ہے۔دشمن سے دشمن انسان کو بھی ماننا پڑے گا کہ آپ کو براہین احمدیہ کے دلائل اور ان کی قوت و استحکام پر ایسا بھروسہ تھا کہ اپنی ساری جائداد منقولہ اور غیر منقولہ کو اس کے دلائل کو غلط ثابت کرنے والے کو دیں۔براہین احمدیہ کی تصنیف کے اولین باعث براہین احمدیہ کی تصنیف کا باعث اگر چہ وہ قدرتی اور طبعی حالات تھے اور مذہبی دنیا میں اسلام کے خلاف مشترک جنگ تھی لیکن سب سے زیادہ جس چیز نے آپ کو متوجہ کیا وہ آریہ سماج کے حملے اور اس کی سرگرمیاں تھیں۔یہ میرا ذاتی خیال یا اجتہاد نہیں بلکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی ظاہر فرمایا۔چنانچہ آپ نے ۱۶ رمئی ۱۸۷۹ء مطابق ۵/ جمادی الاوّل ۱۲۹۶ھ کے منشور محمدی میں ہمارے معزز دوست باوا نرائن سنگھ کے لئے خوشخبری کے عنوان سے جو مضمون شائع کرایا ہے اس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ :- لہذا ہم نے حسب درخواست با وا صاحب ایک کتاب مستمی به براهین احمدیه عَلَى حَقَّيَّةِ كِتَابِ اللهِ الْقُرْآنِ وَالنَّبُوَّةِ الْمُحَمَّدِيَّه ادلہ کا ملہ قطعیہ سے مرتب کر 66 کے تیار کی ہے۔“ اس طرح آپ نے اسی اخبار کے صفحہ ۵ پر ایک اعلان بعنوان ”اشتہار بطلب معاونت نقل کرده از منشور محمدی ۵ جمادی الاول ۱۲۹۶ صفحه ۵،۹،۸) چونکہ یہ مضمون نادر و نایاب ہے