حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 159
حیات احمد ۱۵۹ جلد دوم حصہ دوم یہ عاجز چند روز سے امرتسر گیا ہوا تھا آج بروز چار شنبہ بعد روانہ ہو جانے ڈاک کے یعنی تیسرے پہر قادیان پہنچا اور مجھ کو ایک کارڈ میرا مداد علی صاحب کا ملا۔( یہ میر امداد علی صاحب میر عباس علی شاہ صاحب کے رشتہ میں بھیجے تھے۔عرفانی) جس کے دیکھنے سے بمقتضائے بشریت بہت تفکر اور تر ڈ ولاحق ہوا اگر چہ میں بیمار تھا مگر اس بات کے معلوم کرنے سے کہ آپ کی بیماری غایت درجہ کی تختی پر پہنچ گئی ہے مجھ کو اپنی بیماری بھول گئی اور بہت ہی تشویش پیدا ہوگئی۔خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے عمر بخشے اور آپ کو جلد تر صحت عطا فرما دے۔اسی تشویش کی جہت سے آج بذریعہ تار آپ کی صحت دریافت کی اور میں بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ بشرط صحت و عافیت ۱۴ / اکتوبر تک وہیں آ کر آپ کو دیکھوں اور میں خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا ہوں کہ آپ کو صحت عطا فرمادے آپ کے لئے بہت دعا کروں گا اور اب تَوَلا عَلَی اللہ آپ کی خدمت میں یہ خط لکھا گیا آپ اگر ممکن ہو تو اپنے دستخط خاص سے مجھ کو مسرور الوقت فرما دیں مکتوب مورخه ۱/۸ کتو بر ۱۸۸۴ء مطابق ۷ ارذی الحجہ۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۶۰۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) چنانچہ حضرت اقدس اس وعدے کے موافق ۱۴ راکتو بر ۱۸۸۴ء کو لودہانہ تشریف لے گئے اور میر صاحب کی عیادت کر کے واپس چلے آئے اور خدا تعالیٰ نے ان کو شفا بھی دے دی۔اس موقع پر آپ کے جانے کی کوئی خبر نہ ہوئی تھی اور نہ آپ نے خصوصیت۔اطلاع دی تھی تاہم چونکہ آپ نے سرسری طور پر لکھ دیا تھا آپ لودہا نہ پہنچے تو حسب معمول ނ بقیہ حاشیہ:۔اخلاص کا بہترین نمونہ دکھایا لیکن کوئی مخفی شامت ایسی تھی کہ آخر وہ اس سلسلہ سے کٹ گئے۔عجیب بات ہے کہ حضرت کو اُس کے ارتدار کی خبر اللہ تعالیٰ نے ایسے وقت دے دی تھی جبکہ وہ اخلاص اور ارادت میں ترقی کر رہے تھے۔چنانچہ حضرت نے بعض مکتوبات میں ان امور کی طرف اسے اشارہ توجہ بھی دلائی۔ان کے خاندان میں سے میر عنایت علی صاحب ایک مخلص اور سَابِقُونَ الأَوَّلُون میں سے اس سلسلہ میں داخل ہیں۔(عرفانی)