حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 158 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 158

حیات احمد ۱۵۸ جلد دوم حصہ دوم واضح طور پر ان باتوں کی تصدیق کرا دیں گے۔وبالله التوفيق۔“ امرتسر کے مسلمانوں کے اس انکار کا باعث ان کی نافہمی اور بے ذوقی اور کسی قدر عموماً اہل اللہ واہل باطن سے گوشہ تعصبی ان کو خاص کر مؤلف براہین سے کچھ عداوت نہیں ہے۔علمائے دیو بند و گنگوہ کی اُس وقت کی حالت اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت تک علماء دیو بند اور گنگوہ میں خشیت الہی اور تقویٰ باقی تھا باوجود یکہ لود بانوی گروہ بہت زبردست تھا مگر اُن ربانی علماء نے تقویٰ سے کام لیا اور تکفیر سے انکار کیا۔آج حالت ہی اور ہے۔وہی دیو بند جو اسلاف پرستی کا بڑا مدعی ہے اس معاملہ میں سب سے آگے ہے۔بہ میں تفاوت رو از کجاست تا یکجا غرض حضرت بخیر و عافیت اس سفر سے واپس تشریف لے آئے مگر آپ کے اس سفر نے ایک شور پیدا کر دیا اور لودہانہ کے مولویوں کو فعل در آتش بنا دیا۔لودہانہ کا دوسرا سفر میر عباس علی کی عیادت کے لئے لودہانہ کے سفر کے سلسلہ میں اسی سال ۱۸۸۴ء میں آپ نے ایک دوسرا سفر کیا یہ سفرکسی کی طلبی پر نہیں تھا۔بلکہ میر عباس علی صاحب کی علالت کی خبر آپ کو پہنچی اور اس وقت آپ خود بھی بیمار تھے اور مصروف تھے مگر حق دوستی اور اخوت اسلامی کی اس قدر رعایت کی ان کی عیادت کے لئے اور ہانہ تشریف لے گئے۔چنانچہ اس سفر کے متعلق آپ نے میر صاحب کو ۸ اکتو بر۱۸۸۴ء کو ایک خط لکھا:۔مخدوم و مکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ حاشیہ۔میر عباس علی صاحب اور ہانہ کے ایک تعلیم یافتہ صوفی تھے حضرت اقدس سے ان کو بہت ارادت اور اخلاص تھا۔براہین احمدیہ کو پڑھ کر وہ ایسے گرویدہ ہوئے کہ اس کی اشاعت کے لئے انہوں نے بڑی کوشش کی۔باوجودیکہ اس کی پہلی جلد دیکھ کر وہ کہتے تھے کہ اس سے نبوت کی بُو آتی ہے اور اخلاص میں ترقی کرتے جا رہے تھے۔حضرت کو ان سے اللہ محبت تھی دعویٰ مسیحائی تک اس نے اپنے