حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 152
حیات احمد ۱۵۲ جلد دوم حصہ دوم پر پڑی میرے دل نے کہا کہ یہی حضرت صاحب ہیں اور میں نے آگے بڑھ کر حضرت صاحب سے مصافحہ اور دست بوسی کر لی اس کے بعد میر عباس علی صاحب وغیرہ بھی آگئے اس وقت حضور کی زیارت کے لئے سٹیشن پر بہت بڑا مجمع تھا جن میں نواب محمد علی صاحب رئیس جھجھر بھی تھے۔نواب صاحب مذکور نے میر صاحب سے کہا کہ میر صاحب میری کوٹھی قریب ہے اور اس کے گرد باغ بھی ہے بہت لوگ حضرت مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے آئیں گے اس لئے اگر آپ اجازت دیں تو حضرت صاحب کو یہیں ٹھہرالیا جاوے۔میر صاحب نے کہا کہ آج کی رات تو ان مبارک قدموں کو میرے غریب خانہ پر رہنے دیں کل آپ کو اختیار ہے نواب صاحب نے کہا ہاں بہت اچھا۔غرض حضرت صاحب کو قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بٹھا کر ہمارے محلہ صوفیاں میں ڈپٹی امیر علی صاحب کے مکان میں اتارا گیا۔نماز عصر کا وقت آیا تو حضرت صاحب نے اپنی جرابوں پر مسح کیا اور اس وقت مولوی محمد موسیٰ صاحب اور مولوی عبدالقادر صاحب دونوں باپ بیٹا موجود تھے ان کو مسح کرنے پر شک گزرا تو حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت کیا یہ جائز ہے۔آپ نے فرمایا ہاں جائز ہے اس کے بعد مولوی محمد موسیٰ صاحب نے عرض کیا کہ حضور نماز پڑھائیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ مولوی عبد القادر صاحب پڑھا ئیں پھر اس کے بعد مولوی عبدالقادر صاحب ہی نماز پڑھاتے رہے۔اس موقع پر حضرت صاحب غالبا تین دن لودہانہ میں ٹھہرے بہت لوگ ملاقات کے لئے آتے جاتے تھے اور حضرت صاحب جب چہل قدمی کے لئے باہر تشریف لے جاتے تھے تو اس وقت بھی بڑا مجمع لوگوں کا ساتھ ہوتا تھا۔اس قدر روایت لکھ کر حضرت صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سفر غالباً ۱۸۸۴ء کے قریب کا ہو گا جہاں تک میری تحقیقات ہے اور یہ دستاویزی شہادت پر مبنی ہے جس کا کچھ ذکر میں اوپر کر آیا ہوں یہ سفر ۱۸۸۴ء ہی کا ہے اس لئے کہ دسمبر ۱۸۸۳ء تک مختلف اوقات میں اس سفر کو ملتوی کرتے آئے یا خدا کی مشیت کے ماتحت ملتوی ہوتا رہا۔اکتوبر ۱۸۸۳ء کے آخر میں چند روز ما درست نام نواب علی محمد صاحب رئیس مجھجھر ہے۔(ناشر)