حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 151 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 151

حیات احمد ۱۵۱ جلد دوم حصہ دوم اس مکتوب سے حضور کی سیرت کے اس حصہ پر روشنی پڑتی ہے کہ آپ کبھی تکلف سے کوئی کام کرنا نہیں چاہتے باجود یکہ لوگوں کی خواہش تھی مگر آپ بیعت لینے کے لئے آمادہ نہ تھے اور بر امر آپ کی صداقت اور منجانب اللہ ہونے کی زبر دست دلیل ہے اور آپ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ آپ کی فطرت میں تو حید اور تفویض الی اللہ غالب ہے۔لود ہانہ تشریف لے گئے غرض اس سال میں خصوصیت سے بیعت کا سوال بھی پیدا ہوا مگر آپ نے اس کو قبول نہ کیا آخر وہ وقت آیا اور آپ لودہانہ تشریف لے گئے اس پہلے سفر کے متعلق میر عنایت علی صاحب نے جو روایت بیان کی ہے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے روایت نمبر ۳۳۹ ( سیرت المہدی جلد اصفحه ۳۰۹ تا ۳۱۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) کے نیچے اسے بیان کیا ہے وہ آپ کے ورود لودہانہ کے حالات کی مظہر ہے۔میر صاحب فرماتے ہیں کہ :- اول ہی اوّل جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام زمانہ مجددیت (آپ کی مجددیت کا عہد تو آپ کے دعوی مسیح موعود کے بعد بھی رہا اس لئے کہ چودھویں صدی کا مجد وہی مسیح موعود تھا اس لئے یہ خصوصیت کچھ زیادہ موزوں نہیں۔عرفانی ) میں لودہانہ تشریف لے گئے اس وقت سوائے ایک شخص یعنی میر عباس علی صاحب جو اس عاجز کے خسر اور چاتھے کوئی اور حضرت کی صورت سے آشنا نہ تھا اس سفر میں تین آدمی حضرت صاحب کے ہمراہ تھے مولوی جان محمد صاحب حافظ حامد علی صاحب اور لالہ ملا وامل صاحب، میر عباس علی صاحب اور ان کے ساتھ کئی ایک اور آدمی پلیٹ فارم کا ٹکٹ لے کر حضرت صاحب کے استقبال کے لئے سٹیشن پر گئے اور گاڑی میں آپ کو اِدھر اُدھر تلاش کرنے لگے لیکن حضرت صاحب کہیں نظر نہ آئے کیونکہ آپ گاڑی کے پہنچتے ہی نیچے اتر کرسٹیشن سے باہر تشریف لے آئے تھے اور پھاٹک کے پاس کھڑے تھے۔خوش قسمتی سے میں بھی اس وقت وہیں کھڑا تھا کیونکہ مجھے خیال تھا کہ حضرت صاحب اُسی راستہ سے آئیں گے میں نے اس سے قبل حضرت صاحب کو دیکھا ہوا نہیں تھا لیکن جو نہی کہ میری نظر آپ کے نورانی چہرہ