حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 148
حیات احمد ۱۴۸ جلد دوم حصہ دوم واپس آ جانا ہے۔اُن سے وعدہ ہو چکا ہے والا مُرُكُلُّهُ فِي يَدِ اللَّهِ اور ایک دن کے لئے آنا بھی ہنوز ایک خیال ہے واللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْحَالِ۔اگر خداوند کریم نے فرصت دی اور زندگی اور امن عطا کیا اور امرتسر کے مخمصہ سے صفائی اور راحت حاصل ہوئی اور تاریخ مقررہ پر واپس آنے کے لئے گنجائش بھی ہوئی تو یہ عاجز آنے سے کچھ فرق نہیں کرے گا۔مگر آپ ریل پر ہرگز تشریف نہ لاویں کہ یہ تکلف ہے یہ احقر عبادسخت ناکارہ اور بے ہنر ہے اور اس لائق ہرگز نہیں کہ اس کے لئے کچھ تکلف کیا جائے۔مولیٰ کریم کی ستاریوں اور پردہ پوشیوں نے کچھ کا کچھ ظاہر کر رکھا ہے ورنہ من آنم کہ من دانم“۔مکتوب ۱۹ دسمبر ۱۸۸۳ء مطابق ۱۸ صفر ۱۳۰۱ھ مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۴ ۵۸۵،۵۸ مطبوعه ۶۲۰۰۸) مگر خدا کی قدرت کہ یہ سفر بھی ملتوی ہو گیا اس لئے کہ حضرت اقدس امرتسر کے اس مجوزہ سفر پر جو مکتوب بالا میں ذکر کیا گیا ہے نہ جا سکے اور وہ سفر امرتسر بجائے خود دوسرے وقت پر ملتوی کرنا پڑا جیسا کہ جنوری ۱۸۸۴ء کے مکتوب سے معلوم ہوتا ہے۔اس مکتوب سے آپ کی سیرت کے کئی پہلوؤں پر بھی روشنی پڑتی ہے ان کی صراحت کا یہ مقام نہیں مختصراً اتنا کہنا ضروری ہے کہ آپ کو اپنے وعدہ کے ایفاء کا کس قدر خیال تھا اور طبیعت پر تو حید اور تو کل علی اللہ کا بہت بڑا غلبہ ہے۔تکلفات سے آپ بالکل بری ہیں۔خدا کی قدرت یہ سفر بھی نہ ہو سکا۔حضرت کے مکتوب سے بھی اشارتاً یہ پایا جاتا تھا کہ غالباً یہ سفر نہ ہو سکے اس لئے کہ آپ نے لودہا نہ جانے کے خیال کو بعض قیود سے تجویز کیا تھا۔مثلاً امرتسر کا کام بخیر و خوبی ہو جاوے پھر صحت و امن میسر آئے اور ایسا وقت ہو کہ ۲۶/ دسمبر ۱۸۸۳ ء تک آپ ایک روز قیام کر کے قادیان واپس پہنچ جاویں اس لئے کہ اس تاریخ پر قادیان موجود رہنے کا تو آپ وعدہ کر چکے تھے اور ایفاء عہد مقدم تھا۔اور آخر وہی ہوا جو منشاء الہی میں مقد رتھا اور لودہانہ کا سفر ملتوی ہو گیا۔لودہانہ کے دوستوں کو اس نعمت سے مستفید نہ ہونے کا جو صدمہ ہوا میں اس کو بیان نہیں کر سکتا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھر درخواستیں آنے لگیں۔