حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 146 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 146

حیات احمد ۱۴۶ جلد دوم حصہ دوم سفر امرتسر کا باعث براہین احمدیہ طبع ہو رہی تھی اور حسب معمول مطبع ریاض ہند میں چھپ رہی تھی لیکن مطبع ریاض ہند نے چھ سات جزو کی کا پیاں چشمہ نور پریس کو دے دیں یہ ایک ہندو کا پر لیس تھا مہتم مطبع چشمہ نور نے وعدہ کیا تھا کہ ان کا پیوں کو جلد چھاپ دیا جائے گا اور قبل اس کے کہ پرانی ہو کر خراب ہوں چھپ جاویں گی مگر اس نے وعدہ پورا نہ کیا اور وہ کا پیاں پرانی ہو کر خراب ہو گئیں۔میجر مطبع ریاض ہند نے جب اطلاع دی تو آپ نے امرتسر جانے کا عزم فرمایا تا کہ اپنی موجودگی میں ان کی اصلاح تجویز کریں اس سلسلہ میں آپ نے ایک دن کے لئے لودہانہ کے سفر کا عزم کر کے میر عباس علی صاحب کو اطلاع دی یہ زمانہ کرسمس کے قریب تھا اور ان ایام کرسمس میں بھی بعض لوگ آپ کی خدمت میں آ جاتے تھے اس لئے ۲۶ / دسمبر تک آپ واپس آنا چاہتے تھے ان تمام امور کو مدنظر رکھ کر آپ نے میر صاحب کو لکھا۔بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔گزشتہ ایام کا شکوہ لکھا اور بہت سے رقت آمیز ایسے کلمات لکھے جن سے رونا آتا تھا۔اس دوست کا آخری خط جو ایک دردناک بیان سے بھرا ہے اب تک موجود ہے مگر افسوس کے حج بیت اللہ سے واپس آتے وقت پھر اُس مخدوم پر بیماری کا ایسا غلبہ طاری ہوا کہ اُس دور افتادہ کو ملاقات کا اتفاق نہ ہوا بلکہ چند روز کے بعد ہی وفات کی خبر سنی گئی اور خبر سنتے ہی ایک جماعت کے ساتھ قادیان میں نماز جنازہ پڑھی گئی حاجی صاحب مرحوم اظہار حق میں بہادر آدمی تھے بعض نافہم لوگوں نے حاجی صاحب موصوف کو اس عاجز کے ساتھ تعلق ارادت رکھنے سے منع کیا کہ اس میں آپ کی کسر شان ہے لیکن انہوں نے فرمایا کہ مجھے کسی شان کی پروا نہیں اور نہ مریدوں کی حاجت۔آپ کا صاحبزادہ کلاں حاجی افتخار احمد صاحب آپ کے قدم پر اس عاجز سے کمال درجہ کا اخلاص رکھتے ہیں اور آثار رشد و صلاح و تقویٰ ان کے چہرہ پر ظاہر ہیں وہ باوجود متو نکلا نہ گزارہ کے اول درجہ کی خدمت کرتے ہیں اور دل وجان کے ساتھ اس راہ میں حاضر ہیں خدائے تعالیٰ ان کو ظاہری اور باطنی برکتوں سے متمتع کرے۔