حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 129
حیات احمد ۱۲۹ جلد دوم حصہ اول حضرت کولو د ہا نہ بلاتے رہے اور خدا کی مشیت نے اس وقت تک حضرت کو موقعہ نہیں دیا اور جب میر صاحب نے اس جماعت کے قادیان پہنچنے کے متعلق لکھا تو آپ نے اسی مکتوب میں تحریر فرمایا کہ۔بہتر یہ ہے کہ آں مخدوم ابھی اس عاجز کی تکلیف بیعت کے لئے بہت زور نہ دیں کہ کئی اندیشوں کا محل ہے۔یہ عاجز معمولی زاہدوں اور عابدوں کے مشرب پر نہیں اور نہ اُن کی رسم و عادت کے مطابق اوقات رکھتا ہے بلکہ اُن کے پیرایہ سے نہایت بیگا نہ اور دور ہے سَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ اگر خدا نے چاہا تو وہ قادر ہے کہ اپنے خاص ایماء سے اجازت فرما دے۔ہر ایک کو اس جگہ کے آنے سے روک دیں اور جو پردہ غیب میں مخفی ہے اُس کے ظہور کے منتظر رہیں۔۱۸ / جنوری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۳۰۱ ھ۔مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۵۸۹،۵۸۸ مطبوعه ۲۰۰۸ء)