حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 124 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 124

حیات احمد ۱۲۴ جلد دوم حصہ اوّل کے پھول کی مماثلت پر ایک بصیرت افروز بحث کی (قارئین کرام براہین میں پڑھیں ) اس طرح پر اس سال کا آغاز ستیا نند اگنی ہوتری جی کے ساتھ قرآن مجید کی تحدی نظیر پر ایک مباحثہ قلمی شروع ہو گیا۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت کی اس تحریر کی اشاعت کے بعد اگنی ہوتری جی قرآن شریف پر کسی قسم کا حملہ کرنے سے پیچھے ہٹ گئے اور خاموش ہو گئے۔پنڈت شونرائن اگنی ہوتری کے اس اعتراض نے معارف و حقائق قرآنی کے ایک چشمہ کے جاری کر دینے کی تحریک کی اور خدا تعالیٰ نے وہ معارف آپ کو دیئے کہ آپ سے پیشتر کسی نے اس خصوص میں نہ لکھے تھے۔اس ضمن میں آریوں اور عیسائیوں کے اعتراضات قرآنِ مجید کے متعلق بھی آپ نے رڈ کئے اور ان کی تعلیمات کا قرآنی تعلیم سے مقابلہ کر کے قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت کا اظہار فرمایا۔اس طرح پر یہ سال بر ہموؤں ، آریوں ، عیسائیوں پر مشترکہ فتح کے ساتھ شروع ہوا۔پنڈت شونرائن صاحب کے متعلق میرا بیان نا تمام رہ جائے گا۔اگر اس کے بعد کے واقعات ( جو اس سلسلہ میں پیش آئے ) کا ذکر نہ کر دیا جاوے۔پنڈت صاحب نے جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں اخبار ” دھرم جیون میں براہین احمدیہ پر ریویو کے ضمن میں وحی والہام کے متعلق ایک سلسلہ بحث شروع کر دیا۔آپ نے اس ریویو پر ایک تبصرہ خود براہین احمدیہ میں کرنا پسند فرمایا۔اور الہام ووحی کے متعلق دلائل کے سلسلہ کو الگ رکھ کر آپ نے ایک ایسا طریق اختیار کیا کہ جس کا پنڈت اگنی ہوتری کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور اس کے لئے دو ہی راستے کھلے تھے۔یا تو طالب صادق بن کر آپ کی دعوت کو قبول کرتا اور آپ کی صحبت میں رہ کر اس الہام کی صداقت کو اپنی آنکھ سے دیکھتا اور یا اپنی خاموشی اور گریز سے ہمیشہ کے لئے حضرت کی صداقت پر مہر کر دیتا دونوں راستوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے سے یہی حقیقت عالم آشکار ہوتی۔وہ نہ تو طالب صادق بن کر آیا اور نہ ہی مقابلہ میں آیا۔اور خاموش رہ جانے سے اس نے اس صداقت کو عملاً ثابت کر دیا۔حضرت نے اس مقابلہ کے متعلق براہین احمدیہ کے صفحہ ۳۱۸ کے حاشیہ نمبر ۱۱