حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 123 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 123

حیات احمد ۱۲۳ جلد دوم حصہ اوّل اہم واقعات کو جدا جدا عنوانوں کے تحت میں درج کرنا ضروری سمجھا گیا ہے۔واقعات کی ترتیب میں جہاں تک دستاویزی قرائن صحیحہ کی شہادت سے مددملتی ہے میں کوشش کروں گا کہ مہینوں کی ترتیب کو نظر انداز نہ ہونے دوں۔اور یہ بھی بیان کر دینا ضروری ہے کہ حتی الوسع واقعات کے بیان میں خود حضرت ہی کے بیان اور تحریر کو مقدم کیا گیا ہے۔واقعات میں اول دوسرے لوگوں کا ذکر آتا ہے۔جن پر کسی قسم کا اتمام حجت کیا گیا ہے یا کسی مقابلہ کی دعوت ان کو دینی ہے۔ان کی زندگی میں واقعات شائع ہوئے ہیں اور انہوں نے اگر ان کی کوئی تردید نہیں کی تو یہ ایک مستحکم دلیل ان واقعات کی صداقت کی ہے۔ان اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں ذیل میں ۱۸۸۳ء کے حالات لکھتا ہوں۔جنوری ۱۸۸۳ء اگنی ہوتری اور قرآن شریف کی مثل اس سال کے شروع ہی میں حضرت اقدس کو پھر پنڈت شونرائن اگنی ہوتری سے خطاب کرنے کی ضرورت پیش آئی۔براہین کی پہلی تین جلدوں خصوصاً تیسری جلد کی اشاعت پر براہم سماج میں ایک زلزلہ آیا۔براہمواور دوسرے منکرین وحی و الہام جو اعتراض کرتے تھے آپ نے براہین میں ان کا تفصیل اور بسط کے ساتھ معقول رڈ کیا۔پنڈت شو نرائن اگنی ہوتری جو براہم سماج کے منسٹر اور کرتا دھرتا تھے اس کے جواب کے لئے آمادہ ہوئے اگر چہ اس سے پیشتر بھی ان سے مسئلہ الہام پر ایک خط و کتابت ہو چکی تھی۔جس کا ذکر اسی کتاب میں پہلے ہو چکا ہے مگر اب انہوں نے اپنے اخبار دھرم جیون میں آغاز بحث کیا اور جنوری ۱۸۸۳ء کے دھرم جیون میں قرآن مجید کی تحدی بے نظیری پر ایک آرٹیکل لکھا اور یہ دعوی کر دیا کہ دانشمند انسان ایسی تالیف کر سکتا ہے جو کمالات میں مثل قرآن شریف کے یا اس سے بڑھ کر ہو۔آپ نے پنڈت جی کے اس سوال کا جواب فوراً براہین احمدیہ کے حاشیہ نمبر 1 میں صفحہ ۳۲۹ پر لکھا۔اور اسی سلسلہ میں آپ نے سورۃ فاتحہ اور گلاب وو