حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 117
حیات احمد 112 جلد دوم حصہ اول ہر شخص اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا جوں جوں آپ کا زمانہ بعثت قریب آتا گیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے قرب کی راہوں پر خود چلا کر تقرب الی اللہ کا وہ مقام عطا فر مایا کہ آپ اور مسیح ابن مریم ایک ہی مقام پر نظر آتے ہیں۔۱۸۸۰ء سے لے کر ۱۸۸۲ء تک کے نشانات حضرت اقدس نے نزول امیج میں اپنی بعض پیشگوئیوں کے متعلق ایک تاریخی اسلوب بیان کیا ہے میں یہاں ان پیشگوئیوں کو تفصیل سے بیان نہیں کر سکتا اس لئے کہ آپ کے سوانح زندگی میں پیشگوئیوں اور اعجازی تائیدات کی ایک الگ جلد ہوگی (انشاء اللہ العزیز ) لیکن واقعات کے تاریخی سلسلہ کے لحاظ سے یہاں میں اتنا اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ نے ۸۰-۱۸۸۲ء تک کی پیشگوئیوں میں جن کا ذکر کیا ہے وہ حسب ذیل ہیں۔(1) پیشگوئی نمبر ۲ نزول مسیح صفحه ۱۱۹ مندرجہ برا این احمد به صفحه ۲۴ جلد دوم (۲) پیشگوئی نمبر۳ نزول مسیح صفحه ۱۲۳ مندرجہ براہین احمدیہ صفحه۲۴۲ (۳) پیشگوئی نمبر ۴ نزول امسیح صفحه ۱۴۲ مندرجہ براہین احمدیہ صفحه ۲۴۲ اسی طرح پر پیشگوئی ۶،۵، ۷، ۸، ۹ ، ۱۲،۱۱،۱۰ ،۱۴،۱۳، ۱۵، ۱۶، ۱۷، ۱۸، ۱۹ ، ۲۰، ۲۵ ، ۲۶، ۲۷، ۳۱،۳۰،۲۹،۲۸، ۴۰،۳۹،۳۸، ۴۱، ۷۷، ۱۰۳،۷۸ کو آپ نے ان سنین میں بیان فرمایا ہے۔تفصیل کے لئے قارئین کرام نزول مسیح کو پڑھیں اور تریاق القلوب اور حقیقۃ الوحی میں بھی ان پیشگوئیوں کے متعلق آپ نے بحث کی ہے۔حضرت مولوی عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا شرف باریابی ۱۸۸۰ء سے ۱۸۸۲ء تک کے حالات کو ختم کرتے ہوئے میں حضرت مولوی عبد اللہ سنوری رضی اللہ عنہ کی آمد کا تذکرہ بھی ضروری سمجھتا ہوں۔براہین احمدیہ کی پہلی دونوں جلد میں شائع