حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 113
حیات احمد ۱۱۳ جلد دوم حصہ اوّل بھی کوئی روحانی برکت اور آسمانی تائید اپنے شامل حال رکھتا ہے؟ کیا کوئی زمین کے اس سرے سے اُس سرے تک ایسا متنفس ہے کہ قرآن شریف کے ان چمکتے ہوئے نوروں کا مقابلہ کر سکے؟ کوئی نہیں ایک بھی نہیں۔“ براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ ۲۶۲ حاشیہ در حاشیہ نمبر ا۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۹۲۲۹۱) اس امر کا مزید ثبوت کہ یہ اعلان ۱۸۸۲ء میں ہو چکا تھا اس سے بھی ہوتا ہے کہ آپ نے اس تحدی کو ختم کر کے نور افشاں لودہانہ مورخہ ۳ مارچ ۱۸۸۲ء میں شائع شدہ ایک پادری صاحب کے سوال کا جواب دیا ہے۔اور اس طرح پر اُس دعوت کی مِنْ وَجْہِ تاریخ ہم متعین کر سکتے ہیں کہ ۱۸۸۲ء کی پہلی سہ ماہی میں آپ نے ایک کامل بصیرت اور معرفت کے ساتھ اُن تائیدات ربانی کے مقابلہ کے لئے منکرین اسلام کو بلایا جو آپ کے لئے ظاہر ہورہی تھیں۔یہ دعوت آپ کی ہمیشہ بلند ہوتی رہی اور جوں جوں خدا تعالیٰ کے فیوض و برکات میں ترقی ہوتی گئی اس دعوت کی قوت اور اس کی تشہیر میں بھی وسعت ہوتی چلی جائے گی۔انفرادی طور پر بھی آپ نے بعض خاص لوگوں کو اس مقابلہ میں بلایا اور جماعتی حیثیت سے بھی اگر کسی نے ابتداء جرات اور شوخی سے کام لیا بھی تو مقابلہ کے وقت بھاگ گیا یا اپنی موت کے ذریعہ ایک نشان صداقت ٹھہر گیا اس کی تفاصیل اپنے وقت پر تاریخی سلسلہ میں انشاء اللہ آئیں گی۔پیر سراج الحق صاحب کی آمد پیر سراج الحق صاحب جمالی نعمانی جو سر ساوہ ضلع سہارنپور کے ایک صاحب ارشاد خاندان کے فرد ہیں براہین احمدیہ کے اعلان اور اس کی پہلی اور دوسری جلد کی اشاعت نے ایک طور قیامت پھونک دیا تھا اور تمام لوگ آپ کی طرف توجہ کر رہے تھے۔پیر صاحب اُس وقت عین عنفوانِ شباب میں تھے وہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں ۱۸۸۱ء میں قادیان آیا اس لحاظ سے ان کی آمد آج کے موجودہ رفقاء میں سب سے پرانی ہے۔