حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 110
حیات احمد 11۔جلد دوم حصہ اوّل میں میرے ساتھ ایک اور شخص بیمار ہوا تھا وہ آٹھویں دن راہی ملک بقا ہو گیا حالانکہ اس کے مرض کی شدت ایسی نہ تھی جیسی میری۔جب بیماری کو سولہواں دن چڑھا تو اُس دن بکلی حالات پاس ہو کر تیسری مرتبہ مجھے سورہ یسین سنائی گئی اور تمام عزیزوں کے دل میں یہ پختہ یقین تھا کہ آج شام تک یہ قبر میں ہو گا۔تب ایسا ہوا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مصائب سے نجات پانے کے لئے بعض اپنے نبیوں کو دعائیں سکھائی تھیں مجھے بھی خدا نے الہام کر کے ایک دعا سکھلائی اور وہ یہ ہے سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ اللَّه تعالی پاک ہے اور اپنے محامد کے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ پاک اور برتر ہے اے اللہ ! محمد اور محمد کی آل پر صلوٰۃ ہو ) اور میرے دل میں خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلماتِ طیبہ پڑھ اور اپنے سینہ اور پشتِ سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر کہ اس سے تو شفا پائے گا۔چنانچہ جلدی سے دریا کا پانی مع ریت منگوایا گیا اور میں نے اسی طرح عمل کرنا شروع کیا جیسا کہ مجھے تعلیم دی گئی تھی۔اور اس وقت حالت یہ تھی کہ میرے ایک ایک بال سے آگ نکلتی تھی اور تمام بدن میں دردناک جلن تھی اور بے اختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت بھی ہو تو بہتر تا اس حالت سے نجات ہو۔مگر جب وہ عمل شروع ہوا تو مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفعہ ان کلمات طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے اور بجائے اُس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے۔یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بیماری مجھے بکتی چھوڑ گئی۔اور میں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سویا۔جب صبح ہوئی تو مجھے یہ الہام ہواوَ اِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِشِفَاءٍ مِّنْ