حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 106 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 106

حیات احمد 1۔4 جلد دوم حصہ اوّل حافظ حامد صاحب (جو آپ کے پاس رہتے تھے ) کو بھی یہ الہام الہی سنایا انہی ایام میں ایک شخص حافظ نور احمد امرتسری (جس کا میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں ) کو بھی سنایا جو ا تفاق سے آیا ہوا تھا وہ حضرت کی خدمت میں آیا کرتا تھا اس لئے کہ واعظ تھا جب کبھی اپنے سفر پر ادھر آتا تو قادیان ضرور آتا۔ان ایام میں حضرت اقدس ایک قسم کی زاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے اور پہلی بیوی کے ہاں دونر مینہ اولا د ہو کر ان کے بعد کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ملا وامل اور شرمپت رائے کو بھی آگاہ کیا اور چونکہ یہ لوگ جانتے تھے کہ قریباً بیس سال سے پھر کوئی اولاد پہلی بیوی کے ہاں نہیں ہوئی تھی اس لئے یہ الہام اچنبھا سا معلوم ہوتا تھا۔البتہ حافظ نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب ہے کہ وہ لڑکا دے دے۔اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آپ دوسری شادی کریں گے لیکن اس سلسلہ میں کچھ عرصہ کے بعد دوسری شادی کی۔آپ کو بشارت دی گئی شادی کے متعلق تین مختلف الہام آپ کو ہوئے (۱) اُشْكُرْ نِعْمَتِي رَتَيْتَ خَدِيجَتِي براہین احمدید صفحه ۵۵۸ میری نعمت کا شکر کر تو نے میری خدیجہ کو پایا۔اس میں سادات کے گھر میں شادی ہونے کی بشارت تھی۔(۲) اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَالنَّسَبَ (۳) بِكُرٌ وَّ ثَيِّبٌ باکرہ اور بیوہ۔پھر اسی سلسلہ میں مختلف حالات کے تحت اور بھی الہام ہوئے۔مثلاً ہر چہ باید نو عروسی را ہمہ ساماں کنم - يَا أَحْمَدُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ۔غرض اسی عرصہ میں یعنی ۱۸۸۰ء سے لے کر ۱۸۸۲ء اور ۱۸۸۳ء تک مختلف اوقات میں دوسری شادی کی بشارات ملتی رہیں ایک طرف یہ بشارات تھیں اور دوسری طرف آپ کی حالت اس وقت ایسی تھی کہ دوسری بیوی کا و ہم بھی نہیں آ سکتا تھا چنانچہ خود فرماتے ہیں کہ : یہ خواب (شادی کے متعلق۔عرفانی ) ان ایام میں آئی تھی جبکہ میں بعض اعراض اور امراض کی وجہ سے بہت ہی ضعیف اور کمزور تھا بلکہ قریب ہی وہ زمانہ گزر چکا تھا جبکہ مجھے دق کی بیماری ہو گئی تھی اور بباعث گوشہ گزینی اور ترک دنیا کے حاشیہ: حضرت اقدس نے اپنی بیماری دق کا بھی ذکر کیا ہے۔یہ بیماری آپ کو حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی زندگی میں ہوگئی تھی اور آپ قریباً چھ ماہ تک بیمار ر ہے۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب آپ کا علاج خود کرتے تھے اور آپ کو بکرے کا پایہ کا شور با کھلایا کرتے تھے اس بیماری میں