حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 105
حیات احمد ۱۰۵ حافظ حامد علی صاحب کی آمد جلد دوم حصہ اول انہی ایام میں حافظ حامد علی صاحب جو تھصہ غلام نبی ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حافظ صاحب نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ وہ بیمار رہتے تھے اور ایک مرتبہ امرتسر میں علاج کے لئے گیا اسی راستہ میں حضرت اقدس سے ملاقات ہوئی۔اور واپسی پر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ تم قادیان آجاؤ تمہارا علاج بھی ہو جائے گا۔حافظ صاحب کہتے ہیں کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔اور تھوڑے ہی دنوں میں میری بیماری جاتی رہی۔میں حیران تھا کہ اس قدر جلد مجھے فائدہ ہوا۔پھر مجھے قادیان سے جانے میں تکلیف محسوس ہونے لگی اور میں نے حضرت ہی کی خدمت میں رہنا پسند کیا یہ ۱۸۸۱-۸۰ء کا واقعہ ہے۔حافظ صاحب کے حالات زندگی تحریر کرنے کا یہ موقعہ نہیں حضرت اقدس حافظ صاحب سے بہت محبت رکھتے تھے حافظ صاحب بھی حضور کے جاں نثار خادم تھے یہ حافظ صاحب بہت کم سخن اور خاموش سیرت انسان تھے عبادات میں انہوں نے حضرت اقدس کے رنگ کو حاصل کیا تھا۔انہیں ایام میں حافظ معین الدین صاحب بھی حضرت کی خدمت میں آگئے تھے حافظ معین الدین صاحب نابینا تھے۔میں نے ان کے حالات زندگی الحکم میں لکھ دیئے ہیں۔ان لوگوں کے علاوہ اور بھی بعض لوگ حضرت کی خدمت میں رہتے تھے جیسے میاں جان محمد صاحب۔مرزا دین محمد صاحب۔مرزا غلام اللہ صاحب۔مرزا اسماعیل بیگ صاحب و غیر هم مگر ان سب میں حافظ حامد علی صاحب سب سے پیش پیش تھے۔دوسری شادی کے متعلق بشارات ۱۸۸۱ ہی کا واقعہ ہے کہ ابھی تک آپ کو دوسری شادی کے متعلق بشارات نہ ملی تھیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَسِینِ کی بشارت دی آپ نے حسب معمول اس الہام سے قادیان کے ان ہندوؤں اور مسلمانوں کو جو آپ کے پاس آیا کرتے تھے خبر دی اور حاشیہ:- ایک مقام پر نزول مسیح میں آپ نے لکھا ہے کہ ایک مقدس وحی کے ذریعہ سے خبر دی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ ایک شریف خاندان میں میری شادی کرے گا۔اور قوم کے سیّد ہوں گے اور اس کو خدا مبارک کرے گا اور اس سے اولاد پیدا ہوگی اور پھر یہ الہام ہوا کہ ہر چہ باید نو عروسی را ہمہ ساماں کنم “ اس الہام کو آپ ۱۸۸۰ء کے قریب بتاتے ہیں۔(عرفانی)