حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 101 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 101

حیات احمد 1+1 جلد دوم حصہ اول میں نے اس حکم پر عمل کرنے کے لئے سب سے اول خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ کی طرف خط لکھا۔پس خدا نے جیسا کہ اس نے وعدہ کیا تھا ان کو میری طرف مائل کر دیا اور انہوں نے بلا توقف اڑھائی سو روپیہ بھیج دیا اور پھر دوسری دفعہ اڑھائی سو روپیہ دیا۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۵۰) مکالمات و مخاطبات الہیہ کے سلسلہ کی وسعت یوں تو آپ خدا تعالیٰ کی بشارتوں اور رویاء صالحہ اور مکاشفات و مخاطبات الہیہ سے اپنی جوانی کے ایام سے مشرف تھے۔۶۴ - ۱۸۶۵ء کے مکاشفات براہین میں درج ہیں اور خود براہین اسی کا ظہور ہے لیکن ۱۸۸۰ء میں یہ سلسلہ بہت قوت اور وسعت کے ساتھ شروع ہو گیا۔حضرت نے اپنے الہامات کو درج کرتے وقت کوئی تاریخ وار ڈائری تو نہیں دی لیکن جب ان پیشگوئیوں کے ظہور کا وقت آیا جو ان مبشرات و مکالمات میں موجود تھیں تو آپ نے ۸۰-۱۸۸۲ء ہی کے سالوں کا ذکر فرمایا ہے۔ان مکالمات میں جو بشارتیں آپ کو دی گئی ہیں وہ آپ کی آئندہ کا میابی آپ کی جماعت کی ترقی اور سلسلہ کی وسعت ، آپ کی مخالفت ، دشمنوں کی شدت، آپ کے قتل کے منصوبوں میں آپ کا خارق عادت طریق پر محفوظ رہنا۔قادیان میں ایک جماعت أَصْحَابُ الصفہ کا جمع ہو جانا۔ایک عالی دودمان میں آپ کی دوسری شادی، غرض بیسیوں قسم کی پیشگوئیاں ہیں۔میں ان تمام بشارات کی تفصیل کا یہ مقام نہیں پاتا۔قارئین کرام براہین احمدیہ، نزول مسیح ، حقیقۃ الوحی میں پڑھیں۔ان الہامات و بشا رات کے متعلق آپ کا معمول یہ تھا کہ اپنے پاس آنے جانے والے ہندوؤں آریوں اور مسلمانوں کو سنا دیا کرتے تھے۔اور آپ نے یہ التزام بھی کر لیا تھا کہ ڈاک وغیرہ علی العموم وہی ہندو اور آریہ جا کر لایا کرتے تھے تا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ان نشانات کی صداقت پر مہر شہادت ثبت کریں۔اب میں اُن سالوں کے بعض واقعات کو بغیر کسی خاص ترتیب کے درج کرتا ہوں۔