حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 97 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 97

حیات احمد ۹۷ جلد دوم حصہ اوّل غیر قابض شرکاء نے اس سازش کو مکمل کرنے کے بعد ابتدائی مراحل شروع کئے اور خاندان کے بزرگ مرزا غلام قادر صاحب مرحوم سے سلسله گفت و شنود شروع کیا کہ ان کا حصہ ان کو دے دیا - جاوے۔مرزا غلام قادر صاحب اپنے اثر اور قانونی حقوق کی بناء پر اس قسم کی دھمکیوں سے فیصلہ کے لئے راضی نہ ہوئے۔حضرت اقدس کو جب خبر پہنچی تو باوجود یکہ آپ قادیان کی جائیداد کے معاملات میں کسی قسم کا دخل نہ دیتے تھے لیکن دینی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اور حقوق کی نگہداشت کے خیال سے آپ نے اس میں مداخلت کرنی پسند کی اور یہ مداخلت صرف وعظ کے رنگ میں تھی اور جہاں تک معاملہ کی شرعی حیثیت ہے اس سے واقف کرنا مقصود تھا۔آپ نے تمام خاندان کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ بہتر یہی ہے کہ جو جس کا حق ہے اس کو دے دیا جاوے اللہ تعالیٰ اس میں راضی ہے۔مگر اس پر توجہ نہ کی گئی اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ خاندان کے لوگ حقوق دینا نہ چاہتے تھے بلکہ ان کا منشاء یہ تھا کہ جس طرح پر خاندان کی طرف سے سلوک ہوتا آیا ہے اُسی پر عمل درآمد ہو نیز مرزا غلام قادر صاحب اپنی وجاہت اور آن کے خلاف سمجھتے تھے کہ دب کر کوئی کام کروں۔فریق مخالف نے چونکہ دھمکیاں دی تھیں اس لئے وہ بغیر مقابلہ کے کچھ دینے کو آمادہ نہ تھے۔حضرت اقدس نے اپنا فرض ادا کر دیا۔حضرت کو اس میں مَوَدَّت فِي الْقُرْبَى بھی مد نظر تھی۔چونکہ اس معاملہ میں گہری سازش تھی اس لئے خاندان کی دوسری شاخ نے اُن شر کا ء کو اکسا کر اور اپنے قابو میں کر کے اُس اراضی کو مرزا اعظم بیگ صاحب کے پاس بہت ہی کم قیمت پر فروخت کر دیا اور اس پر مقدمات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔حضرت اقدس نے جب مقدمات کے لئے دعا کی تو آپ کو الہام ہوا کہ اُجِیبُ كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ یعنی میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں۔حضرت اقدس نے پھر گھر والوں کو جمع کر کے منشاء الہی سے اطلاع دی کہ اس مقدمہ میں کامیابی نہ ہوگی اسے چھوڑ دو۔مرزا غلام قادر صاحب چونکہ ہزاروں روپیہ اس پر خرچ کر چکے تھے انہوں نے اس عذر کو مد نظر رکھ کر پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔حضرت صاحب محسوس کرتے تھے کہ یہ عذر سرسری تھا چنانچہ آپ