حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 91 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 91

حیات احمد ۹۱ جلد دوم حصہ اوّل تھے۔اگر ہمارے اس جواب میں کچھ شک ہو تو بالمواجہ بحث کرنی چاہیئے۔اور اس بارہ میں ان کا ایک خط بھی آیا اس خط میں بحث کا شوق ظاہر کرتے ہیں۔اس واسطے بذریعہ اس اعلان کے ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ بحث بالمواجہ ہم کو بسر و چشم منظور ہے ! سوامی جی کو مقام بحث اور ثالث بالخیر اور انعقاد اجلاس کی تجویز بذریعہ اخبار مشتہر کرنے کی دعوت دی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔مکتوبات احمدیہ کی جلد دوم میں میں ان خطوں کو چھاپ چکا ہوں۔سوامی جی نے پہلے تو روحوں کے بے انت ہونے کے مسئلہ کو ترک کیا اور مباحثہ کے لئے انہیں ہمت اور حوصلہ نہ ہوا۔حضرت صاحب نے اپنے اعلان میں یہ بھی لکھ دیا تھا۔کہ اگر سوامی صاحب نے اس اعلان کا کوئی جواب مشتہر نہ کیا تو بس یہ سمجھو کہ سوامی صاحب صرف باتیں کر کے اپنے موافقین کے آنسو پونچتے ہیں۔“ با وجود غیرت دلانے والے الفاظ کے بھی سوامی جی میدان میں نہ آئے اور مجھے تعجب ہے کہ ان کی زندگی کے حالات لکھنے والے ان واقعات کو سرے سے ہضم ہی کر گئے ہیں۔حضرت اقدس نے یہ اعلان ۱۰رجون ۱۸۷۸ء کو کیا تھا۔سوامی جی خاموش رہے بالآ خر ۹ رفروری ۱۸۷۹ء کو اخبار سفیر ہند میں حضرت اقدس نے پانسور و پیہ کا ایک انعامی اشتہار دیا اور اس کے بعد متواتر شائع ہوا۔اس اعلان میں حضرت صاحب نے سوامی دیانند صاحب کے متبعین کو بھی چیلنج دیا کہ وہ روحوں کا بے انت ہونا ثابت کریں اور نیز یہ کہ پر میشر کو ان کی تعداد معلوم نہیں اس اعلان پر آریہ سماج میں ایک کھلبلی سی پیدا ہوئی اُس وقت لاہور کی آریہ سماج بہت بڑی نمایاں سماج تھی۔منشی جیون داس صاحب اس کے سیکرٹری تھے انہوں نے ایک اعلان کے ذریعہ انکار کر دیا کہ : - آریہ سماج والے سوامی دیانند کے تو ابعین سے نہیں ہیں۔اور انہوں نے مسئلہ مذکورہ کے متعلق بھی لکھ دیا کہ آریہ سماج کے اصولوں میں داخل نہیں جو اس کا دعویدار ہو اس سے سوال کرنا چاہیئے۔میں تفصیلی طور پر حیات النبی جلد اول نمبر دوم میں لکھ آیا ہوں اور یہ تحریریں اس میں درج ہیں یہاں اس واقعہ کا مختصر ذکر ۱۸۷۹ء کے حالات اور حمله موجودہ نام حیات احمد جو خود مصنف نے ہی بدل دیا تھا۔(ناشر)