حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 62
حیات احمد ۶۲ جلد دوم حصہ اوّل عالی ہمتوں کے سب کی طرف سے خاموشی رہی۔نہ خطوط کا جواب آیا نہ کتابیں واپس آئیں۔مصارف ڈاک تو سب ضائع ہوئے لیکن اگر خدانخواستہ کتابیں بھی واپس نہ ملیں تو سخت دقت پیش آئے گی اور بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔افسوس جو ہم کو اپنے معزز بھائیوں سے بجائے اعانت کے تکلیف پہنچ گئی۔الآخره (براہین احمدیہ صفحہ ب و ج حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۲ ۶۳ ) اس سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ براہین احمدیہ کے لئے دس ہزار روپیہ لوگوں نے دیا تھا صحیح نہیں۔جو لوگ معقول رقمیں دے سکتے تھے انہوں نے بے اعتنائی کی اور جن لوگوں نے جو کچھ دیا وہ خود حضرت نے براہین احمدیہ میں بقید نام چھاپ دیا ہے۔اگر محض تجارتی اغراض یا اصولوں پر اس کتاب کی اشاعت و طباعت کا انتظام ہوتا تو ان حالات میں مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب نہ طبع ہوتی نہ شائع ہوتی۔چونکہ آپ کی غرض و غایت اس کتاب کی اشاعت سے محض خدمتِ اسلام تھی اس لئے آپ نے کبھی کسی تجارتی اصل کو ملحوظ نہیں رکھا نہ تو کتاب کی طباعت میں ان امور کی پرواہ کی جو اخراجات طباعت کو کم کر دیں اور نہ کتاب کی فروخت میں تجارتی اصول آپ کے زیر نظر رہا۔میں اس کی تائید میں اندرونی شواہد پیش کرتا ہوں۔اس امر کا ثبوت کہ آپ کے مدنظر تجارتی مقاصد نہ تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق براہین احمدیہ کی اشاعت کے لئے معاونین کو پیدا کیا تو سب سے زیادہ جس شخص نے براہین کے خریداروں کے پیدا کرنے میں سعی کی میر عباس علی صاحب لدھیانوی تھے۔میر صاحب کی ابتدا اس سلسلہ میں جس جوش اور اخلاص سے ہوئی افسوس ہے کہ انجام اس اخلاص پر نہ ہوا۔اور وہ سلسلہ سے کٹ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ہر اس شخص کو ( جو میر صاحب سے واقف ہے ) اس امر کا دکھ ہے کہ اُن کا خاتمہ اس طرح پر ہوا۔اور یہ مقام خوف ہے ان کا معاملہ اب خدا تعالیٰ سے ہے۔