حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 375
حیات احمد ۳۷۵ جلد دوم حصہ سوم حضور اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے ہمیشہ خدا کے آگے رویا کرتا تھا اور گڑ گڑایا کرتا تھا اور وہ تھا میر ناصر نواب۔خدا نے اس کی دعاؤں کو سنا اور قبول کیا اور خود مسیح موعود کو تحریک کی اور خود حضرت میر صاحب اور ان کی حرم کے دل میں باقی سب رشتوں سے نفرت پیدا کر کے صرف اور صرف حضرت مسیح موعود کے لئے انشراح پیدا کر دیا۔اس طرح سے یہ ابتدائی مراحل طے ہو کر اس مبارک اور مقدس جوڑے کی نسبت قرار پا گئی جس سے ایک نئی دنیا ایک نیا خاندان ایک نیا قصر امن تعمیر ہونے والا تھا۔جس رشتہ کے ذریعہ بنے والی دلہن خدیجہ ثانیہ بنے والی تھی اور خدیجہ ثانیہ کا شوہر بروز محمد بن کر جلوہ افروز ہونے والا تھا جس جوڑے کے عالم وجود میں لانے کی ایک غرض ایک موعود بیٹا جس کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُ لَهُ کی بشارت سے دی تھی پیدا کرنا تھا۔اور ایک پاک نسل پیدا کرنی تھی جن کی مخالفت مخالفوں کو یزیدی اور جن کی محبت سعادت اور خدا تعالیٰ کی رضا کا موجب بننے والی ہے۔پس یہ مبارک جوڑا با وجود روکوں اور حالات کی ناموافقت کے خدا کے منشاء کے ماتحت نامزد ہو گیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَعَلَى آلِهِ وَخُلَفَائِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ - آمين تقریب نکاح اور اس کی کیفیت جس تاریخ کو خط لکھا اس تاریخ سے آٹھ دن بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی پہنچ گئے حافظ حامد علی صاحب بطور خادم کے ساتھ تھے اور لالہ ملا وامل صاحب اور ایک دو آدمی ساتھ تھے حضرت میر صاحب کی برادری کے لوگوں کو جب معلوم ہوا تو وہ بہت ناراض ہوئے کہ ایک بوڑھے شخص کو اور پھر پنجابی کو رشتہ دے دیا اور کئی لوگ اس ناراضگی کی وجہ سے شامل بھی نہ ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ساتھ کوئی زیور اور کپڑا نہ لے گئے تھے صرف ڈھائی سو روپیہ نقد