حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 293
حیات احمد ۲۹۳ جلد دوم حصہ سوم بھی چاہیں اور کسی نئے امر کے پیش آنے میں مضطرب نہ ہوں۔آخر میں پھر فرمایا آپ کی حالت قویہ پر بھی امید کی جاتی ہے کہ آپ ہر ایک انقباض پر غالب آویں۔یہ اس وقت کی حالت ہے جبکہ میر عباس علی صاحب کامل اخلاص اور محبت سے آپ کی تائید میں اپنا پورا وقت دے رہے تھے۔اور اس کو بھی تائید دین یقین کرتے تھے۔گویا ۱۸۸۴ء میں حضرت اقدس پر بعض ایسے امور کا انکشاف ہو رہا تھا جو ایک طرف خود آپ کی آنے والی زندگی کے واقعات کی تصویر تھے اور دوسری طرف میر عباس علی صاحب کے انجام کا مرقع۔امور غیبیہ کی حقیت تو اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ پورے ہوں اس لئے حضرت اقدس اپنے حسن ظن سے کام لیتے تھے۔اور ساتھ ہی میر صاحب کو آنے والے ابتلا سے ہوشیار بھی کرتے جاتے تھے آج یہ واقعات آپ کی صداقت کے روشن دلائل ہیں۔حضرت میر عنایت علی صاحب رضی اللہ عنہ جو میر عباس علی صاحب کے بھتیجے اور داماد تھے۔فرمایا کرتے کہ میر صاحب کے پاس جب حضرت صاحب کا حاشیہ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سَلَّمَهُ اللهُ تَعَالَى - السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔بعد ہذا آپ کا خط ثالث بھی پہنچا۔آپ کی دلی تو جہات پر بہت ہی شکر گزار ہوں۔خدا آپ کو آپ کے دلی مطالب تک پہنچا وے۔آمین یا رب العالمین۔غرباء سے چندہ لینا ایک مکر وہ امر ہے۔جب خدا اس کا وقت لائے گا تو پردہ غیب سے کوئی شخص پیدا ہو جاوے گا۔جو دینی محبت اور دلی ارادت سے اس کام کو انجام دے۔تجویز چندہ کو موقوف رکھیں۔اب بالفعل لور ہیانہ میں اس عاجز کا آنا ملتوی رہنے دیں۔آپ کے تشریف لے جانے کے بعد چند ہندوؤں کی طرف سے سوالات آئے ہیں۔اور ایک ہند وصوابی ضلع پشاور میں کچھ رڈ لکھ رہا ہے۔پنڈت شیو زرائن بھی شائد عنقریب اپنا رسالہ بھیجے گا۔سواب چاروں طرف سے مخالف جنبش میں آ رہے ہیں۔غفلت کرنا اچھا نہیں۔ابھی دل ٹھہر نے نہیں دیتا۔کہ میں اس ضروری اور واجب کام کو چھوڑ کر کسی اور طرف خیال کروں۔إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ رَبِّی۔اگر خدا نے چاہا تو آپ کا شہر کسی دوسرے وقت میں دیکھیں گے۔آپ کے تعلق محبت سے دل کو نہایت خوشی ہے۔خدا اس تو اس تعلق کو مستحکم کرے۔انسان ایسا عاجز اور بیچارہ ہے کہ اس کا کام طرح طرح کے پردوں اور حجابوں سے خالی نہیں۔اور اس کے کسی کام کی تکمیل بجز حضرت احدیت کے ممکن نہیں۔ایک بات واجب الاظہار ہے اور وہ یہ ہے کہ