حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 89
حیات احمد ۸۹ جلد اوّل حصہ اوّل حاصل کرنے کے لئے بے حد فکر مند تھے۔اور آپ کو واپس آ کر والد صاحب کو بھی جواب دینا تھا مگر یہ کیسا قلب ہے کہ اسے کوئی جنبش اور اضطراب نہیں۔یہ سکون یہ وقار ایسا نہیں کہ ناظرین سرسری نظر سے اس پر سے گزر جائیں۔شاہ صاحب کہتے ہیں کہ اس مقدمہ کا نتیجہ مرزا صاحب نے پہلے بتا دیا تھا۔جہاں اس سے یہ ظاہر ہے کہ آپ کو مقدمات سے نفرت تھی وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رضا بالقضاء آپ کی فطرت میں تھی ورنہ ایسی حالت میں شکر کرنا کارے دارد۔مقدمات کے اس سلسلہ کے بیان سے میرا مطلب ان خصائص زندگی کا اظہار خصوصی مقصود نہ تھا جن پر ضمنا میں نے بحث کر دی بلکہ مجھ کو فی الحقیقت آپ کی زندگی کے ان ایام کی مصروفیت کا ذکر کرنا تھا کہ ان ایام میں آپ حضرت مرزا صاحب قبلہ کی اطاعت کے لئے مقدمات کی پیروی اور امور زمینداری کی نگرانی میں مصروف ہو گئے مگر یہ مصروفیت آپ کو نہ تو مطالعہ سے مانع تھی اور نہ یاد الہی میں حارج بلکہ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اور اس کے حکم کے نیچے تھا۔تلاش روزگار آج سے ساٹھ سال پیشتر عام طور پر شرفاء کے لڑکے بعض بڑی بڑی ریاستوں میں اپنے ٹھاٹھ کے ساتھ چلے جاتے اور وہاں بڑے بڑے عہدے حاصل کر لیتے۔جناب مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم ریاست کشمیر میں ایک معزز عہدہ پر رہ چکے تھے اس لئے ان کے ایک برادر زادہ کی تحریک پر مرزا صاحب اور سید محمد علی شاہ صاحب تلاش روزگار کے خیال سے قادیان سے چلے گئے۔کلانور کے قریب ایک نالے سے گزرتے ہوئے مرزا صاحب کی جوتی کا ایک پاؤں نکل گیا۔مگر وہ اپنے رنگ میں ایسے مستغرق اور محو تھے کہ انہیں معلوم بھی نہیں ہوا۔جب تک وہاں سے بہت دور جا کر یا د نہیں کرایا گیا۔آخر جموں پہنچے وہاں آپ کا کام بجز قرآن شریف کی تلاوت اور نماز کی پابندی کے اور کچھ نہ تھا وہاں ان امور میں منہمک رہتے۔چند روز کے بعد ایک رشتہ دار وہاں پہنچا اور سب کو واپس لے آیا۔