حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 88 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 88

حیات احمد ۸۸ مقدمات سے بالطبع نفرت تھی جلد اوّل حصہ اوّل میں اوپر حضرت مرزا صاحب ہی کے بیان سے لکھ آیا ہوں کہ آپ کو مقدمات سے بالطبع نفرت تھی۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق ایک خاص واقعہ انہیں ایام کا ظاہر کر دیا جاوے۔لاہور میں آپ ایک مقدمہ کی پیروی کے واسطے گئے ہوئے تھے اور وہاں سید محمد علی شاہ صاحب کے مکان پر اُترے ہوئے تھے۔سید محمد علی شاہ صاحب قادیان کے ایک معزز رئیس ہیں۔اور اُن دنوں محکمہ جنگلات میں وہ ملازم تھے۔حضرت مرزا صاحب کو مقدمات کی پیروی کے لئے جب کبھی جانے کا اتفاق ہوتا تو اُن کے مکان پر ٹھہرتے۔ایک مرتبہ ایک مقدمہ کی پیروی کے واسطے گئے ہوئے تھے۔شاہ صاحب کا ملازم مرزا صاحب کے لئے کھانا چیف کورٹ ہی میں لے جایا کرتا تھا۔ایک دن وہ کھانا لے کر واپس آیا تو شاہ صاحب نے پوچھا کہ کیا مرزا صاحب نے کھانا نہیں کھایا تو نوکر نے جواب دیا کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ گھر پر آ کر ہی کھاتا ہوں۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد مرزا صاحب بہت خوش اور بشاش آپہنچے شاہ صاحب نے پوچھا کہ آج آپ اتنے خوش کیوں ہیں؟ کیا فیصلہ ہوا؟ تو فرمایا کہ مقدمہ تو خارج ہو گیا ہے مگر خدا تعالیٰ کا شکر ہے آئندہ اس کا سلسلہ ختم ہو گیا۔شاہ صاحب موصوف کہتے ہیں کہ مجھے تو سن کر بہت افسوس ہوا مگر حضرت اقدس بہر حال ہشاش بشاش تھے اور بار بار فرماتے تھے کہ مقدمے کے ہارنے کا کیا غم ہے۔غور کا مقام ہے کہ ایک دنیا دار دنیا کی آخری عدالت میں مقدمہ ہارتا ہے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے۔بعض اوقات ایسے دیکھنے میں آئے ہیں کہ ایسے موقعوں پر لوگوں نے خود کشیاں کر لی ہیں یا اُن کے دماغ کو کسی قسم کا صدمہ پہنچ گیا ہے۔خود اسی خاندان میں نظیر موجود ہے کہ مرزا غلام قادر مرحوم جو آپ کے بڑے بھائی تھے جب چیف کورٹ کی عدالت میں جائیداد قادیان کا مقدمہ جس کا ذکر دوسرے مقام پر آئے گا ہار گئے تو انہیں ایسا صدمہ ہوا کہ پھر اسی غم میں وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔لیکن مرزا غلام احمد صاحب چیف کورٹ میں مقدمہ ہارتے ہیں اور مقدمہ کی پیروی اپنے والد صاحب کی طرف سے ان حالات میں کر رہے ہیں جبکہ وہ اپنی جاگیر و جائیداد کے تمام حقوق