حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 87 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 87

حیات احمد جلد اوّل حصہ اوّل حضرت مرزا صاحب کی صحبت میں رہنے اور آپ کی باتیں سننے کا موقع ملا ہے یا جنہوں نے ان تقریروں کو جو شائع ہو چکی ہیں پڑھا ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب ہمیشہ دست بکار دل به یار کی ہدایت فرمایا کرتے تھے۔مقدمات میں فریق مقدمہ کو عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ وہ مدعی ہوں یا مدعا علیہ۔ایک اضطراب اور بے قراری کی حالت میں ہوتے ہیں مگر مرزا صاحب مقدمات کی پیروی کے لئے جاتے تھے۔طبیعت میں کوئی بے چینی اور گھبراہٹ نہیں ہوتی تھی۔پورے استقلال اور وقار کے ساتھ دل بہ یار متوجہ رہتے۔جہاں یہ مقدمات کی پیروی محض اطاعت والد کے فرض کے ادا کرنے کے لئے تھی وہاں آپ نے ان مقدمات کے دوران میں کبھی کوئی نماز قضا نہیں کی اور اس طرح پر ان فرائض سے غافل نہیں ہوئے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے متعلق ہیں۔عین کچہری میں آپ وقت نماز پر اسی طرح مشغول ہو جاتے گویا آپ کو اور کوئی کام ہی نہ تھا۔اور بسا اوقات ایسا ہوا کہ آپ نماز میں مشغول ہیں اور اُدھر مقدمہ میں طلبی ہوئی۔مگر آپ اسی طرح اطمینانِ قلب سے نماز میں لگے رہے ہیں۔ایک مرتبہ فرماتے تھے کہ :- میں بٹالہ ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا نماز کا وقت ہو گیا اور میں نماز پڑھنے لگا۔چپڑاسی نے آواز دی مگر میں نماز میں تھا۔فریق ثانی پیش ہو گیا اور اس نے یک طرفہ کارروائی سے فائدہ اٹھانا چاہا۔اور بہت زور اس بات پر دیا مگر عدالت نے پروانہ کی اور مقدمہ اس کے خلاف کر دیا اور مجھے ڈگری دے دی۔میں جب نماز سے فارغ ہو کر گیا تو مجھے خیال تھا کہ شاید حاکم نے قانونی طور پر میری غیر حاضری کو دیکھا ہومگر جب میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ میں تو نماز پڑھ رہا تھا تو اس نے کہا کہ میں تو آپ کو ڈگری دے چکا ہوں۔“ اس قسم کی بہت سی مثالیں آپ کی اس زندگی میں ملتی ہیں۔